اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ اگلے 5 روز کے دوران قطر سے ایل این جی کے 4 کارگو پاکستان پہنچ جائیں گے جس کے بعد ملک میں جاری بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی کھیپ پہنچتے ہی گیس کی فراہمی معمول پر آ جائے گی، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور شہریوں کو طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل جائے گی۔
وفاقی وزیر نے موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہے۔ تاہم ان کا یہ بیان زمینی حقائق کے برعکس ہے کیونکہ گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے۔
ملک بھر کے بڑے شہروں میں شہری شدید گرمی میں طویل لوڈشیڈنگ سے نڈھال ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں 10 گھنٹے تک 14 گھنٹوں تک بجلی غائب رہتی ہے، جبکہ راولپنڈی میں بھی 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
اسی طرح اسلام آباد میں 6 گھنٹے، لاہور میں 5 سے 6 گھنٹے اور پشاور کے نواحی علاقوں میں 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش جاری ہے۔ حکومتی دعووں کے برعکس عوام اس وقت بجلی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
اویس لغاری نے امید ظاہر کی کہ ایل این جی کے کارگو پہنچنے کے بعد صورتحال میں بہتری آئے گی اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ گیس کی فراہمی کے بعد کیا واقعی بجلی کی ترسیل میں بہتری آتی ہے یا عوام کو مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ توانائی کی طلب اور رسد کے فرق کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ گرمیوں کے اس سیزن میں شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور نظام کو معمول پر لایا جا سکے۔