ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کیلیے ایرانی انکار کی وجہ کیا تھی؟

تہران: ایران نے پاکستان کی جانب سے ہونے والی ثالثی کی کوششوں کے باوجود امریکی وفد کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شرکت کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔ اس سلسلے میں تہران کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے سخت اور غیر معمولی مطالبات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ حالات میں مذاکرات میں شمولیت وقت کا ضیاع ہے کیونکہ امریکا خود کسی بھی قابلِ قبول سمجھوتے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنا یہ دو ٹوک مؤقف پاکستان اور ثالثی کرنے والے فریقین تک پہنچا دیا ہے۔

ایران نے مذاکرات کے عمل کو امریکی ناکابندی ختم کرنے سے مشروط کر دیا ہے۔ ایران نے یہ فیصلہ حالیہ واقعات کے تناظر میں کیا جن میں امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر فائرنگ اور اسے قبضے میں لینے کا واقعہ بھی شامل ہے۔

تہران اسے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف جارحانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں کسی بھی بامعنی پیش رفت کا امکان انتہائی کم نظر آتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا ہے اور ایران پر مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی ناکابندی بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک امریکی مطالبات میں توازن نہیں آتا اور ناکابندی جیسے اقدامات جاری رہتے ہیں، تب تک کسی بھی سفارتی عمل کا حصہ بننا ممکن نہیں۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ مصالحتی کوشش فی الحال ناکام دکھائی دیتی ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے خطے میں قیام امن کے لیے کی جانے والی یہ کوششیں اہم سمجھی جا رہی تھیں، تاہم فریقین کے درمیان پایا جانے والا اعتماد کا فقدان اور امریکا کے سخت مؤقف نے مذاکراتی عمل کو ڈیڈ لاک کا شکار کر دیا ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں