امریکا نے ایران کو اسلحہ اور عسکری ساز و سامان کی فراہمی میں مبینہ کردار ادا کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف اپنی پابندیوں میں نمایاں توسیع کرتے ہوئے متعدد افراد اور اداروں کو باضابطہ طور پر ہدف بنا لیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 14 افراد اور کمپنیوں کو نئی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے دفاعی اور عسکری ڈھانچے تک مختلف نوعیت کے ہتھیار اور متعلقہ ٹیکنالوجی پہنچانے میں معاون رہے ہیں۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ یہ اقدام ایران کے اس وسیع تر نیٹ ورک کو محدود کرنے کی کوشش ہے جو مختلف ممالک میں سرگرم رہ کر اسلحے کی ترسیل اور عسکری سپلائی چین کو فعال رکھتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایسے تمام راستوں کو بند کرنا ہے جن کے ذریعے ایران تک جنگی صلاحیت بڑھانے والا سامان پہنچایا جاتا ہے۔
امریکی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے نیٹ ورک میں ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو ایران کے ساتھ ساتھ ترکی، متحدہ عرب امارات اور دیگر خطوں میں سرگرم رہے ہیں، جبکہ بعض فضائی اور تجارتی ذرائع کو بھی اس نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
واشنگٹن کے مطابق یہ اقدامات خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری سرگرمیوں کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد ایران کے اسلحہ جاتی نیٹ ورک کو کمزور کرنا اور اس کی بیرونی سپلائی لائنز کو منقطع کرنا ہے۔