تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک گہری فوجی چال قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
مہدی محمدی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ ہارنے والا فریق کبھی بھی شرائط عائد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا ہے۔ محاصرے کا تسلسل بمباری سے قطعی مختلف نہیں ہے اور اس کا جواب اب فوجی انداز میں دیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا کوئی حقیقی معنی نہیں ہے۔ یہ محض ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد اچانک حملے کے لیے درکار وقت حاصل کرنا ہے، جس سے ایران پوری طرح باخبر اور چوکس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ایران خود پہل کرے اور اپنی آزادانہ حکمت عملی کے تحت سخت اقدامات کرے۔ ایران اب مزید انتظار کرنے کے بجائے اپنے دفاعی اور فوجی اہداف کے حصول کے لیے جارحانہ انداز میں پیش قدمی کرنے کا تہیہ کر چکا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انہوں نے آبنائے ہرمز میں امریکی ناکابندی کو بدستور برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے اور یہی ناکابندی اس وقت خطے میں کشیدگی کا سب سے بڑا سبب بنی ہوئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی دباؤ اور محاصرے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ ایران اب خطے میں امریکی موجودگی اور ناکابندی کو اپنی قومی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے، اسی لیے اب تہران کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائیوں کا عندیہ دیا جا رہا ہے جو صورتحال کو مزید بدل سکتا ہے۔