واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور اب ان کی پوری بحریہ سمندر کی تہہ میں پہنچ چکی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے یہ بات وال اسٹریٹ جرنل کے ایک تجزیاتی مضمون پر ردعمل دیتے ہوئے کہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے ان کے علاوہ دیگر تمام امریکی صدور کا فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سخت پالیسیوں اور دباؤ کے نتیجے میں ایران کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس سے ملک کی معیشت تباہ ہو گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اس کی فضائیہ بھی مکمل تباہ ہو چکی ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام اور ریڈار اب مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ملک کا دفاعی ڈھانچہ انتہائی کمزور ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران کی جوہری لیبارٹریز اور تمام اہم ذخیرہ گاہیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں اور سخت بحری ناکا بندیوں کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی ایران کی عسکری طاقت کے خاتمے سے متعلق ایسے کئی دعوے کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کے ان بیانات کے باوجود خطے میں کشیدگی کی رپورٹس مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے دعوے بھی وقتاً فوقتاً کیے جاتے ہیں۔
اس صورتحال پر بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ دعوے ان کی انتخابی مہم اور خارجہ پالیسی کے بیانیے کا حصہ ہو سکتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری یہ سیاسی و عسکری کشیدگی عالمی سطح پر انتہائی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔