امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے ایک ایسے جہاز کو تحویل میں لیا ہے جس میں مشتبہ نوعیت کا سامان موجود تھا، اور ان کے بقول یہ اشیاء چین کی جانب سے بھیجی گئی تھیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت نے انہیں کسی حد تک حیران کیا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین کے ساتھ ان کے تعلقات مثبت ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ باہمی مفاہمت کی ایک فضا موجود ہے۔ اسی پس منظر میں اس معاملے کو احتیاط اور سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو دہرایا کہ پکڑے گئے جہاز میں موجود سامان کی نوعیت قابلِ تشویش ہے، اور یہ معاملہ محض ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سفارتی اور سکیورٹی پہلو ہو سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل بھی امریکی صدر کی جانب سے بیجنگ کو بالواسطہ تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر چین نے تہران کو اسلحہ یا عسکری مدد فراہم کی تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔ تازہ انکشاف نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ عالمی سطح پر طاقتوں کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔