تہران: ایران نے اپنے پڑوسی ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر کسی ملک نے اپنی سرزمین یا تنصیبات کو امریکی جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تو ایران اسے اپنی سلامتی پر حملہ تصور کرے گا اور بھرپور انتقامی کارروائی عمل میں لائے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر ماجد موسوی نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ اگر دشمن نے تہران کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے کی غلطی کی تو ایران اپنے منتخب کردہ اہداف کو نشانہ بنانے کا مکمل اختیار رکھتا ہے اور خاموش نہیں بیٹھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اگر ان کے انفرا اسٹرکچر سے ایران پر حملہ ہوا تو انہیں خطے میں تیل کی پیداوار کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ تباہ ہو جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس ہے کیونکہ حالیہ عرصے میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور تیل پیدا کرنے والی سہولیات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جس سے عالمی مارکیٹ میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔
پاکستان میں ہونے والا مذاکراتی عمل ایران کی عدم دلچسپی اور امریکی شرائط پر تحفظات کے باعث التوا کا شکار ہوا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر نے بھی اپنے دورہ پاکستان کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا کی جانب سے عائد کردہ ناکابندی ختم نہیں ہوتی اور جنگ بندی معاہدے کی پاسداری یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک کسی بھی قسم کے مذاکرات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
تہران کی اس سخت پالیسی نے مشرق وسطیٰ میں جنگی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ دھمکی دراصل ایک اسٹریٹجک اقدام ہے تاکہ خطے کے ممالک کو امریکی کیمپ میں جانے سے روکا جا سکے۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکا کو کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔