عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان بچوں کی اموات میں نمایاں کمی لانے والے دنیا کے پانچ سرِفہرست ممالک میں شامل ہو گیا ہے، جہاں وسیع پیمانے پر جاری ویکسینیشن پروگرام کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کی بدولت اب تک لاکھوں بچوں کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھا گیا ہے جو ماضی میں جان لیوا ثابت ہوتی تھیں۔ ادارے کے مطابق ویکسینیشن کے نتیجے میں تقریباً 26 لاکھ بچوں کو قابلِ تدارک امراض میں مبتلا ہو کر موت کے خطرے سے بچایا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان نے ماضی میں چیچک کے مکمل خاتمے کا سنگ میل 1976 میں عبور کیا، جس کے بعد ملک میں حفاظتی صحت کے منظم پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اسی پروگرام کے تحت وقت کے ساتھ بچوں اور ماؤں کی اموات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن مہم کے باعث اب تک تقریباً 16 کروڑ بچوں اور 13 کروڑ ماؤں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا چکی ہیں۔ پاکستان میں 1996 کے دوران جہاں پولیو کے تقریباً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے، وہیں مسلسل ویکسینیشن کے نتیجے میں سال 2025 تک یہ تعداد انتہائی کم ہو کر صرف 31 کیسز تک رہ گئی ہے، جو ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت 13 مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفت ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔ عالمی تعاون کے ادارے گاوی کے اشتراک سے ہر سال تقریباً 70 لاکھ بچوں اور 55 لاکھ خواتین کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں، جبکہ پولیو سے بچاؤ کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں تک ویکسین پہنچائی جاتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس قومی مہم میں 15 ہزار ویکسینیٹرز اور 4 لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جسے دنیا کے بڑے اور منظم عوامی صحت کے پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وسیع نیٹ ورک پاکستان میں بیماریوں کی روک تھام اور بچوں کی زندگیاں بچانے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ 24 اپریل سے یکم مئی تک عالمی سطح پر ویکسین کا ہفتہ منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس جانب راغب کرنا ہے۔