پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو صوبائی حکومت ہر قسم کی مصالحت ختم کر دے گی اور وفاق کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی اختیار کی جا سکتی ہے۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی سطح پر پذیرائی ملی جبکہ عمران خان گزشتہ 24 برس سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں، جنگ اور ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں بلکہ مذاکرات ہی پائیدار راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 اپریل کا جلسہ قومی مفاد میں ملتوی کیا گیا اور سیاسی مفادات کو قربان کر کے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا گیا، اس کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے سنجیدہ پیش رفت نہیں کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے خلاف سیاسی امتیاز جاری ہے، کارکنوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جا رہی ہے جبکہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مبینہ رویے اور بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے خدشات کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں قابلِ تشویش ہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مصالحت کا راستہ ترک کر دیا جائے گا، صوبے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 آخری مراحل میں ہے اور تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جامع اور مؤثر منصوبہ بندی یقینی بنائیں۔
انہوں نے شراکتی حکمرانی کو ترجیح دیتے ہوئے عوام کو ترقیاتی منصوبہ سازی میں شامل کرنے کا اعلان کیا، 4 مئی سے 8 مئی تک ایک خصوصی پورٹل کھولا جائے گا جہاں شہری سڑکوں، ٹیوب ویلز، اسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنی تجاویز اور شکایات براہ راست حکومت تک پہنچا سکیں گے۔
وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھرپور شرکت کریں تاکہ ان کی آرا کو ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنا کر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔