جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر پیٹرولیم لیوی ختم کرنے اور قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے عوامی ریلیف فراہم کرنے کے بجائے لیوی اور دیگر مبینہ ناجائز ٹیکس برقرار رکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات براہِ راست متوسط اور غریب طبقے پر پڑیں گے، جو پہلے ہی بنیادی ضروریات زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کرے گا بلکہ ملکی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔
جماعتِ اسلامی کے امیر نے مزید کہا کہ مہنگی بجلی اور گیس کے باعث پہلے ہی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے انہوں نے عوام پر مسلسل بڑھتا ہوا معاشی دباؤ قرار دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا، جس کا اطلاق 25 اپریل 2026 سے ہو چکا ہے۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 353 روپے 42 پیسے سے بڑھ کر 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت 366 روپے 58 پیسے سے بڑھا کر 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، نئی قیمتیں آئندہ ہفتے کے لیے نافذ العمل رہیں گی۔