نکوسیا: یورپی یونین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے مابین کوئی جامع اور پائیدار معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بلاک ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو بتدریج نرم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر سکتا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو۔
جرمن چانسلر نے قبرص میں منعقدہ ایک اہم سربراہی اجلاس کے دوران یورپی رہنماؤں پر واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کا عمل نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرے گا بلکہ یہ طویل مدتی جنگ بندی کے قیام میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی یونین کے اعلیٰ حکام مصر، شام اور لبنان کے سربراہان کے ساتھ خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امور پر مشاورت کر رہے ہیں تاکہ امن کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی تاخیر یا محصولات کے ہر قسم کی رکاوٹوں سے پاک کیا جائے کیونکہ یہ عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔
اجلاس کے دوران یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے خبردار کیا کہ اگر جاری مذاکرات 2015 کے جوہری معاہدے کی طرح ٹھوس نتائج دینے میں ناکام رہے تو عالمی برادری کو ایک زیادہ طاقتور اور خطرناک ایران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو سیکیورٹی بحران بڑھائے گا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ یورپی یونین کا اب یہ ماننا ہے کہ صرف سفارت کاری اور نئے معاہدے ہی جوہری پھیلاؤ کو روکنے کا واحد موثر اور محفوظ راستہ ہو سکتے ہیں۔
یورپی رہنماؤں کے مطابق ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے شفاف مذاکرات ناگزیر ہیں، تاہم اس عمل میں امریکا کا کلیدی کردار انتہائی اہم ہے جس کے بغیر پابندیوں میں نرمی کا کوئی بھی فیصلہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس اہم اجلاس میں شریک تمام ممالک نے خطے میں قیام امن کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔