دیر البلح: غزہ کے علاقے دیر البلح میں متحدہ عرب امارات کے فلاحی اقدام کے تحت اجتماعی شادی کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں 150 فلسطینی جوڑے نئی زندگی کے سفر کا آغاز کرتے ہوئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔
یہ تقریب اماراتی مشن الفارس الشہیم کے زیر اہتمام منعقد کی گئی جس کا بنیادی مقصد غزہ کے ان نوجوانوں کی مالی معاونت کرنا ہے جو شدید معاشی بحران اور موجودہ حالات کے باعث شادی جیسے اہم فریضے کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا شکار تھے۔


تقریب میں شریک جوڑوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل دور میں شادی کے اخراجات کا اٹھانا ان کے لیے ناممکن تھا، لیکن متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد نے ان کے لیے اس خواب کو عملی حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔
نوجوان جوڑوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے ان کی معاشی پریشانیاں کم ہوئی ہیں اور انہیں اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے کا حوصلہ ملا ہے، یہ تقریب ان کے لیے صرف ایک شادی نہیں بلکہ زندگی میں امید اور خوشی کی ایک نئی کرن ہے۔


انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تقریبات کا انعقاد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور انہیں عملی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد متاثرہ علاقوں میں سماجی اور خاندانی ڈھانچے کو مستحکم رکھنے میں مدد کرنا ہے۔
غزہ کی پٹی طویل عرصے سے انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے جس کے باعث وہاں کی نوجوان نسل شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے فلاحی اقدامات ان کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی لانے اور انہیں ایک پروقار مستقبل فراہم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔


متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو مقامی سطح پر بہت سراہا گیا ہے۔ شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایسی تقریبات نہ صرف نوجوانوں کا مستقبل سنوارتی ہیں بلکہ مشکل حالات میں فلسطینیوں کے حوصلے بلند رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

