بیروت: اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کو حزب اللہ نے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے بے معنی قرار دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق لبنانی تنظیم کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اور اسرائیلی کارروائیوں کے ہوتے ہوئے یہ توسیع کسی بھی قسم کے قیام امن میں مددگار ثابت نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں لبنانی اور اسرائیلی سفیروں سے ملاقات کے بعد 3 ہفتوں کی جنگ بندی توسیع کا اعلان کیا تھا۔
یہ معاہدہ رواں اتوار کو اختتام ہونے والا تھا، لیکن حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں اور کشیدگی نے اس پورے عمل کو شدید شکوک و شبہات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
حزب اللہ کے قانون ساز علی فیاض نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیل کی دشمنانہ کارروائیاں، گولہ باری اور شہریوں کا قتل عام جاری رہے گا، تب تک کسی بھی جنگ بندی کا کوئی جواز نہیں بچتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جارحیت جاری رہنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر اسرائیلی حملہ مزاحمت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس کا بھرپور اور متناسب جواب دے۔ تنظیم نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی معاہدے کا باضابطہ فریق نہیں ہے اور اسرائیل کے ساتھ لبنان کے براہ راست رابطوں کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت دیکھی گئی جب اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے فوری بعد حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک اسرائیلی ڈرون کو فضا میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جس سے خطے میں مزید کشیدگی پھیل گئی ہے۔
خطے میں جاری اس نئی صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اگر جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں توازن نہ لایا گیا تو یہ خطہ مزید بڑی تباہی اور طویل المدتی جنگ کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔