خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے ایک بار پھر اپنی عسکری صلاحیتوں کا عندیہ دیتے ہوئے سخت پیغام جاری کیا ہے، جہاں ایرانی بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے کہا ہے کہ ایران نے اب تک اپنے ہتھیاروں کی مکمل طاقت استعمال نہیں کی اور اس کے پاس اب بھی قابلِ ذکر دفاعی وسائل موجود ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور امریکی اقدامات کے باعث خطے میں تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کے پاس بالخصوص میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے، جو اب تک مکمل طور پر استعمال میں نہیں لائی گئی۔
ایرانی بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن آپشن برقرار رکھے ہوئے ہے، آبنائے ہرمز ایران کے مؤثر اور دانشمندانہ کنٹرول میں ہے، جبکہ بحیرہ عمان میں موجود مخالف قوتوں کو ایرانی مسلح افواج کی جانب سے بارہا سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں وہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے ملک کے اندر بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم عوامی اتحاد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے باعث صورتحال قابو میں ہے اور ملک محفوظ ہے۔
یاد رہے کہ ایران کو طویل عرصے سے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے بڑے ذخیرے کا حامل ملک تصور کیا جاتا ہے، اور یہی صلاحیت اس کی دفاعی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جسے خطے میں اس کے لیے ایک مؤثر باز anticipation کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔