ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جوڈیشل کمیشن کا بڑا فیصلہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کی منظوری

اسلام آباد: ملک کے اعلیٰ عدالتی فورم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اہم اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دے دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کی صدارت جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جس میں آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججز کے تبادلوں پر غور کیا گیا۔ کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔

ذرائع کے مطابق تینوں ججز کے تبادلوں کی منظوری اکثریت رائے سے دی گئی، اجلاس میں اختلافی آوازیں بھی سامنے آئیں، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر، بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیٹر علی ظفر نے ججز کے تبادلوں کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

اجلاس میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلوں کی سفارش واپس لے لی، جس کے بعد ان دونوں کیسز پر مزید کارروائی نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے اجلاس سے قبل چیف جسٹس کے نام خط بھی تحریر کیا تھا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت تبادلے سے قبل انہیں ذاتی طور پر سنا جائے،کمیشن نے اکثریتی رائے سے تبادلے کی منظوری دے دی۔

تبادلے کے بعد سینیارٹی پوزیشن بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی لاہور ہائی کورٹ میں بارہویں نمبر پر ہوں گے جبکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینئر ترین جج تھے۔ اسی طرح جسٹس بابر ستار پشاور ہائی کورٹ میں چھٹے نمبر پر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز سندھ ہائی کورٹ میں سولہویں نمبر پر ہوں گی۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تبادلوں سے خالی ہونے والی اسامیوں کو نئی تقرری کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں دیگر تبادلوں کے ذریعے ہی پر کیا جائے گا۔

اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ججز کے تبادلوں کے لیے واضح اور شفاف اصولوں کی ضرورت ہے اور بغیر ٹھوس وجوہات کے ایسے فیصلے نہیں ہونے چاہئیں، اس معاملے میں اصولی مؤقف اپنانا ضروری ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں