ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنے کے قابل نہیں رہا: ایران

ایران نے امریکا کے عالمی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ خودمختار ریاستوں پر اپنی مرضی مسلط کر سکے، بدلتے ہوئے عالمی حالات نے امریکا کی وہ حیثیت کمزور کر دی ہے جس کے تحت وہ دیگر ممالک کو اپنی پالیسیوں کا پابند بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں آزاد ممالک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے زیادہ بااختیار ہو چکے ہیں، اس لیے امریکا کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ انہیں کسی بھی معاملے پر احکامات دے سکے۔ واشنگٹن کو زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

رضا طلائی نیک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے ایک نئی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس پر امریکا غور کر رہا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل ہے، تاکہ خطے میں توانائی کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے جاری بیان میں رضا طلائی نیک نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرتے ہوئے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات سے دستبردار ہونا چاہیے۔ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے طاقت کے بجائے باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق موجودہ عالمی منظرنامہ اس بات کا متقاضی ہے کہ بڑی طاقتیں دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام کریں اور دباؤ ڈالنے کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں، بصورت دیگر خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں