ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عالمی منڈی میں تیل مہنگا، قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر

واشنگٹن: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت تین ہفتوں کی بلند ترین سطح عبور کرتے ہوئے 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھنے لگا ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بالخصوص آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں تاخیر کو قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

سرمایہ کاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ اب صورتحال صرف جغرافیائی کشیدگی تک محدود نہیں رہی بلکہ زمینی حقائق، خاص طور پر تیل کی دستیابی میں کمی، قیمتوں پر زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے، مارکیٹ اب سفارتی بیانات کے بجائے اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ سمندری راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت بھی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات تاحال بحال نہیں ہو سکے، جس کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکا میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں کمی دیکھی گئی جبکہ یورپ کی مارکیٹس میں معمولی بہتری اور ایشیائی مارکیٹس میں مجموعی طور پر منفی رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

ادھر امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق اوسط قیمت 6 سینٹ اضافے کے بعد 4.18 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو اگست 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا میں پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں، جو معمول کی سطح 250 ملین بیرل سے کم ہو کر 230 ملین بیرل سے نیچے آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا مشرق وسطیٰ میں سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ریکارڈ مقدار میں تیل اور ریفائنڈ مصنوعات برآمد کر رہا ہے، جس سے اندرون ملک قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خصوصاً ریاست کیلیفورنیا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جو عام شہریوں کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں