ایران سے متعلق جاری کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جسے مبصرین ایک نئی طرز کی سرد جنگ قرار دے رہے ہیں، جہاں براہِ راست جنگ کے بجائے مالی پابندیاں، محدود عسکری کارروائیاں اور سفارتی دباؤ ایک ساتھ چل رہے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ تعطل کے فوری خاتمے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی منڈیوں میں آنے والے کئی ماہ تک قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ممکنہ اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالات کسی بھی وقت کھلی فوجی جھڑپ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
متعدد امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ کو اس بات پر تشویش ہے کہ امریکا ایک ایسے طویل تنازع میں الجھ سکتا ہے جس میں نہ مکمل جنگ کا اعلان ہو اور نہ ہی کوئی واضح سفارتی معاہدہ سامنے آئے، بلکہ ایک مسلسل غیر یقینی کیفیت برقرار رہے۔
اس صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا کو اپنے فوجی دستے طویل مدت تک خطے میں برقرار رکھنے پڑ سکتے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال، بحری نقل و حرکت پر پابندیاں اور ایک دوسرے کے اقدامات کا انتظار، پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ تنازع سیاسی طور پر بھی اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک قریبی ذریعے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ تعطل نہ صرف معاشی دباؤ کا باعث ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت دو مختلف حکمت عملیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں ایک جانب ممکنہ فوجی کارروائی اور دوسری جانب ایران پر مزید سخت اقتصادی دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک قریبی مشیر سے گفتگو میں یہ تاثر دیا کہ ایران کی قیادت صرف طاقت کے ذریعے ہی ردعمل دیتی ہے، تاہم ان کے کچھ مشیر اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں اور فوری فوجی تصادم کے بجائے دباؤ کی پالیسی جاری رکھنے کے حامی ہیں۔
اسی تناظر میں بعض سینئر مشیر یہ تجویز دے رہے ہیں کہ کسی بھی نئے فوجی اقدام سے قبل اقتصادی پابندیاں مزید سخت کی جائیں اور خطے میں بحری دباؤ برقرار رکھا جائے۔
دوسری جانب ایران کی ایک پیشکش پر بھی غور کیا گیا، جس میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی کے بدلے امریکی پابندیوں میں نرمی کی بات شامل تھی، تاہم اس پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ امریکی حکام کے مطابق موجودہ انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کسی بھی معاہدے سے قبل ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو حل کیا جانا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت صورتحال ایک نازک توازن پر کھڑی ہے، جہاں پابندیاں اور دباؤ اپنی جگہ برقرار ہیں، لیکن کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید طویل ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔