تہران: ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں اور اس صورتحال کو بدلنے کے لیے اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی بات چیت ایک انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ اب گیند مکمل طور پر امریکی کورٹ میں ہے اور تعطل توڑنے کی ذمہ داری ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ شدت آئی تو اس کے اثرات صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس تنازع کے نتیجے میں پورا خطہ جنگ کی آگ میں لپٹ سکتا ہے اور حالات بے قابو ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو کر بحیرہ ہند، بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور بحیرہ روم تک پھیل جائے گا۔ اس صورتحال سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا پورا نظام بری طرح درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً ایک چوتھائی ترسیل انہی آبی راستوں سے ہوتی ہے۔ اگر حوثی جنگجو باب المندب کو بند کر دیتے ہیں اور آبنائے ہرمز پہلے ہی بند رہے تو عالمی منڈیوں میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس وقت یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستوں پر نسبتاً تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن محسن رضائی کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران اب بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہشمند ہے اور امریکی قیادت سے ٹھوس پیش رفت کا منتظر ہے۔
مجموعی طور پر تہران اب بھی سفارتی دروازے کھلے رکھنے پر یقین رکھتا ہے، تاہم ایران کا یہ واضح مطالبہ ہے کہ واشنگٹن کو اب عملی طور پر آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر وقت پر فیصلے نہ کیے گئے تو خطے میں کوئی بھی بڑا فوجی تصادم عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔