بی آئی ایس پی میں 24 ارب کی بے ضابطگیاں، ایک لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین فنڈز لیتے رہے

اہم انکشاف، جماعت اسلامی کی شدید تنقید، شفافیت پر سوالات اٹھ گئے

October 24, 2026 · اہم خبریں

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کا منظر۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کا منظر۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جہاں مبینہ طور پر 1 لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین نے مستحق خاندانوں کے لیے مختص رقم وصول کی۔ وزارتِ تخفیفِ غربت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں اب تک صرف 71 کروڑ روپے کی ریکوری ہو سکی ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق مالی سال 2019-20 میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بی آئی ایس پی سے 23 ارب 13 کروڑ روپے وصول کیے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ مالی بے ضابطگیوں میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ان کے شریکِ حیات بھی ملوث رہے جبکہ مستحقین کے فنڈز وصول کرنے والوں میں بی آئی ایس پی کے اپنے 236 ملازمین بھی شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد سے ایف آئی اے اور دیگر محکموں نے مجموعی طور پر تقریباً 70 کروڑ 65 لاکھ روپے کی ریکوری کی ہے۔ بی آئی ایس پی نے مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کا ریکارڈ متعلقہ اداروں کو ارسال کر دیا ہے جبکہ مزید چھان بین کے لیے 6 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بی آئی ایس پی میں 24 ارب کی بے ضابطگیوں کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پروگرام کی شفافیت پر شدید سوالات اٹھا دیے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سالانہ 800 ارب روپے سے زائد کے بجٹ کے باوجود یہ پروگرام ملک میں غربت ختم کرنے میں ناکام رہا اور پچھلے 8 سال میں غربت کی شرح 21 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ عالمی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔

ادھر بی آئی ایس پی کے نظام میں بہتری لاتے ہوئے رقم کی تقسیم کا نیا اور آسان طریقہ بھی سامنے آیا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر عصمت نواز کے مطابق بینیفشریز کو رقوم کی ادائیگی متعلقہ بینکوں کے مجاز ایجنٹس کے ذریعے جاری رہے گی اور انٹر آپریبلٹی کے تحت مستحقین کسی بھی دن اور کسی بھی بینک سے اپنی رقم وصول کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل والٹ کے اجراء کا مقصد مستحق خواتین کو بااختیار بنانا ہے اور اس کے لیے سمارٹ فون ہونا ضروری نہیں بلکہ سادہ موبائل فون کے ذریعے بھی یہ سہولت حاصل کی جا سکتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں