زبان کا خاتمہ دنیا کو سمجھنے کے ایک منفرد انداز کا خاتمہ ہے: منوج سنہا

بڈگام/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے عالمگیریت کے دور میں لسانی اور ثقافتی شناختوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی زبان کا معدوم ہونا دنیا کو سمجھنے کے ایک منفرد انداز کے خاتمے کے مترادف ہے۔
بمنہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کسی خطے کو محض جغرافیائی حدود، نقشوں اور اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اس کی لوک روایات، زبانوں، فنون، مذہبی ورثے اور وہاں کے لوگوں کے عملی تجربات بھی اس کی حقیقی شناخت کا حصہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے جموں یونیورسٹی کے مرکز برائے علاقائی مطالعات کے کشمیر چیپٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز ثقافتی ورثے کے تحفظ، زبانوں کی بقا، قدیم مخطوطات کی حفاظت، ڈیجیٹل آرکائیونگ، لسانی نقشہ سازی اور مختلف شعبوں پر مشتمل تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تکنیکی صلاحیتیں اور جذباتی ذہانت ایک دوسرے کے متضاد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جذباتی ذہانت ٹیکنالوجی کو زیادہ مفید، ذمہ دارانہ اور انسان دوست بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو وسعت دیں، تاہم اس دوران آزادانہ سوچ، اخلاقی شعور، تخلیقی صلاحیتوں اور انسانی شناخت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
سنہا نے کہا کہ مستقبل ان افراد کا ہوگا جو مختلف علمی شعبوں کو آپس میں جوڑنے اور ٹیکنالوجی کے ماہرین، محققین اور روایتی ہنرمندوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، نقل مکانی اور سیاحت سے متعلق مسائل جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے لسانیات، بشریات، ماحولیات، معاشیات، نفسیات اور فنون کے ماہرین کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ مرکز بین الشعبہ جاتی تحقیق کے ایک مثالی ادارے کے طور پر ابھرے گا اور دیگر تعلیمی و تحقیقی اداروں کے محققین کو بھی اپنی جانب راغب کرے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں