کے پی کے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کیے جائیں گے، پاک فوج کا سیاست سے تعلق نہیں ،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
فائل فوٹو
راولپندی: پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں پر ”محتاط طور پر پرامید“ ہے۔ یہ بات ڈی جی آئی ایس پی آر نے تہران کے حالیہ اعلیٰ سطح دورے کے بعد خبر رساں ادارے رائٹرکو اپنے پہلے انٹرویو میں کہی۔
ترجمان پاک فوج نے کہاکہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اس ماہ دو بار تہران کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے سعودی اور ترکی کے حکام کے ساتھ مل کر آٹھ ماہ سے جاری ایران جنگ کو روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم ہمیشہ محتاط امید کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ طاقتور سازشی اور مخالف عناصر اب بھی موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ تنازع ان کے مفاد میں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ سعودی وزیر دفاع شہزاد خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن نے بھی پیر کے روز تہران میں مذاکرات میں شرکت کی۔ 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ میں ایران کی شمولیت کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ جو بھی مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کا وژن رکھتا ہے، اس کا خیرمقدم ہے تاہم حتمی فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی۔
ترجمان نے اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات (مکہ و مدینہ) کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے۔
ترجمان نے کہاکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی معطلی اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج کسی بڑے پیمانے کے ملٹری کیمپین کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر عمل پیرا ہے اور ان کی رفتار اور آزادیِ عمل میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید کہاکہ فوج نے اپنے اوپر لگائے جانے والے سیاسی الزامات کو رد کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں