120 رکنی پارلیمنٹ میں نیتن یاہو مخالف یہودی جماعتوں نے 48 نشستیں جبکہ عرب جماعتوں راعم اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتی ہیں
67 نشستوں کا ممکنہ اتحاد، نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کی کوششیں تیز
تل ابیب: اسرائیل میں وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے لیے احتجاجی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، جہاں سیکڑوں مظاہرین نے اپوزیشن جماعتوں سے عرب سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ انتخابات میں عرب اکثریتی جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، تاہم اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے ابھی تک ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں نیتن یاہو مخالف یہودی جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ عرب جماعتوں راعم اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتی ہیں۔ دونوں گروپ متحد ہو جائیں تو 67 نشستوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔
تاہم اپوزیشن کی بعض جماعتیں عرب سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کر رہی ہیں۔ گادی آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ وہ ایسی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل کو یہودی، جمہوری اور لبرل ریاست کے طور پر تسلیم کرے اور حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے۔
دوسری جانب بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس کے رہنما یائر گولان نے عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت تشکیل دینے کی تجویز کی حمایت کی ہے، جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی تعاون کو اسرائیل کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔