قطری ثالثوں سے مشاورت کے بعدپیش رفت
ایران کیخلاف نئی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا،عباس عراقچی
ایران نے سات روزہ منصوبے کو مختصر کرکے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمزکھولنے کی پیش کش کردی۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق اس تجویز کے تحت امریکا پہلے روز کچھ مطلوبہ اقدامات کرے گا، جس کے بعد دوسرے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر لائی جاسکے گی۔
خلیجی اخبار گلف نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے بتایا کہ قطر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں دو روزہ منصوبہ سامنے آیا ہے۔ ان کے بقول پہلے دن امریکا کو مخصوص اقدامات کرنا ہوں گے، دوسرے دن آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری نقل و حرکت بحال کرنے کا مرحلہ ہوگا۔
ایران کی جانب سے اس سے قبل سات روزہ منصوبہ پیش کیا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کو چھٹے روز دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل تھی۔ قطری ثالثوں سے مشاورت کے بعد اس منصوبے کو مختصر کرکے دو روز تک محدود کردیا گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت کو دو روز کے اندر بحال کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ بات چیت کی بنیاد ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے جسے اب مختصر کر دیا گیا ہے اور یہ دو دن کے اندر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔تاہم انھوں نے کہا کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی اور ایران کے جائز مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو گا اور نہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا یا محفوظ بنایا جائے گا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ،واحد حقیقی اور قابلِ عمل تجویز تہران کا پیش کردہ منصوبہ ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یہ خط ’کوئی نئی تجویز پیش نہیں کرتا۔ ثالثوں کے ذریعے کسی بھی بالواسطہ رابطے کی بنیاد ایران کا وہی سات نکاتی منصوبہ ہے۔
بقائی نے مزید کہاکہ چونکہ یہ خط سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے معزز سیکریٹری (محسن رضائی) کے نام تھا، اس لیے اس کے جواب کے طریقہ کار اور نوعیت کا فیصلہ کرنا انھی کا اختیار ہو گا۔
خیال رہے کہ وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کو ایک خط بھیجا ہے جس میں امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کی بحالی اور بعض ضروری اشیا، جن میں ادویات بھی شامل ہیں، ایران درآمد کرنے میں سہولت فراہم کرنے سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔