ایران پر دوبارہ خوفناک حملے کیے جائیں؟نیتن یاہو کا ٹرمپ پر شدید دبائو

ونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ،یتن یاہو نے ٹرمپ سے ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا،فائنینشل ٹائمز

November 2, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن/ یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ رواں ہفتے امریکہ میں ہونے والے مڈ ٹرم (وسطی) انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں۔

خبر رساں ادارے ’فائنینشل ٹائمز‘ اور ’ایکسیوس‘ کی رپورٹس کے مطابق معاملے سے باخبر باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم امریکی صدر نے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ رواں ہفتے امریکہ میں ہونے والے مڈ ٹرم (وسط مدتی) انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کریں۔

معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو نے ہفتے کے روز امریکی صدر سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران ایران کے خلاف دوبارہ جنگ چھیڑنے پر زور دیا۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ایک سینئر امریکی اہلکار نے دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں اسرائیل میں غیر حتمی انتخابات کے بعد نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ عسکری کارروائی کے حق میں ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ فی الحال اس موقف سے پوری طرح متفق نہیں ہیں۔

دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں قطر کی قیادت میں سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ فریقین کے درمیان عبوری معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔

 ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل وحرکت بحال کرے گا، جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکابندی ختم کر کے اسے تیل کی برآمد اور منجمد اثاثوں تک رسائی دے گا۔

 امریکہ اور ایران کے درمیان شدید عدم اعتماد کے باعث مذاکرات کی پیشرفت سست ہے، خاص طور پر ایران کے 440 کلوگرام اعلیٰ درجے کے یورینیم کے ذخیرے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے انسپکٹرز کو معائنے کی اجازت دینے کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

مڈل ایسٹ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں اور جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یہ گزشتہ مراحل کے مقابلے میں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگی، جس سے علاقائی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں