پاڑٹی میں کوئی بغاوت نہیں ،ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ خود سنبھال رہے ہیں ناراض اراکین کا معاملہ:سلمان ساگر

سرینگر/نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی سلمان علی ساگر نے حکمراں جماعت میں بغاوت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ خود دیکھ رہے ہیں اور جلد ہی ان مسائل پر بات چیت متوقع ہے۔
سرینگر کے تلسی باغ میں سینئر این سی رہنما اور گریز کے رکن اسمبلی نذیر احمد گوریزی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان ساگر نے کہا کہ پارٹی اراکین کے درمیان اختلافات کو بلاوجہ ایک بڑے سیاسی بحران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کوئی بغاوت نہیں ہے، بلکہ بعض اراکین کو معمولی نوعیت کے تحفظات ہیں جنہیں دور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ ان اراکین نے وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کا وقت بھی طے کر لیا ہو۔
سلمان ساگر نے کہا کہ پارٹی قیادت تحفظات رکھنے والے اراکین اسمبلی کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے اور انہیں یقین ہے کہ تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کر لیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ ان معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور پارٹی میں کسی قسم کی بغاوت کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔
پارٹی قیادت اور ناراض اراکین اسمبلی کے درمیان ممکنہ ملاقات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بات چیت متوقع ہے، تاہم حالیہ دنوں میں سینئر رہنماؤں کی اہم مصروفیات کے باعث ان تحفظات پر غور کرنے میں چند روز کی تاخیر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دہلی میں کئی اہم مصروفیات تھیں، جس کے باعث چند روز کا وقفہ آیا، تاہم اب یہ مصروفیات ختم ہو چکی ہیں اور قیادت اراکین اسمبلی کے تحفظات پر بات کرے گی۔
سلمان ساگر نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں میں کبھی رابطے کا فقدان، کبھی بحث و مباحثہ اور کبھی معمولی اختلافات پیدا ہونا عام بات ہے، اس لیے ہر اختلاف کو پارٹی میں تقسیم یا ٹوٹ پھوٹ سے جوڑنا درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس میں ان معاملات کو حل کرنے کے لیے قیادت خود سرگرم ہے اور جو لوگ پارٹی میں تقسیم کی امید لگائے بیٹھے ہیں، انہیں تحفظات دور ہونے کے بعد مایوسی ہوگی۔
پارٹی کے سینئر اراکین اسمبلی، جن میں مبارک گل، نذیر احمد گوریزی اور قیصر جمشید لون شامل ہیں، کی ناراضگی سے متعلق سوال پر سلمان ساگر نے ان رہنماؤں کی سیاسی حیثیت اور پارٹی کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔انہوں نے فاروق احمد شاہ اور اعجاز احمد جان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام رہنما پارٹی کے اہم اثاثے ہیں اور انہوں نے سیاسی و انتظامی سطح پر نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رہنماؤں کی پارٹی میں حیثیت معمولی نہیں ہے اور ان کے تحفظات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
مبارک گل کے حامیوں کی جانب سے احتجاج جاری رکھنے کی اطلاعات پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے دیے گئے مخصوص بیانات کا علم نہیں، تاہم پارٹی اپنے سینئر رہنماؤں کا احترام کرتی ہے۔نذیر احمد گوریزی کی رہائش گاہ پر اپنی آمد کو کسی خفیہ سیاسی سرگرمی یا پس پردہ مذاکرات سے جوڑنے کی خبروں کو بھی انہوں نے مسترد کیا اور کہا کہ اس طرح کی کوئی الگ سیاسی سرگرمی جاری نہیں ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ آیا وہ ناراض اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، سلمان ساگر نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت خود تمام اراکین کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے ایک معمولی کارکن ہیں اور تمام اراکین اسمبلی کا قیادت کے ساتھ رابطہ برقرار ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ کابینہ توسیع کے بعد نیشنل کانفرنس کے اندر بعض اراکین اسمبلی میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ان اراکین نے کابینہ میں نمائندگی، طرزِ حکمرانی اور پارٹی کے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد سمیت کئی معاملات پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ناراض اراکین اسمبلی نے اس سلسلے میں ایک یادداشت بھی پیش کی تھی، جس میں انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں اور پارٹی کی سابقہ اندرونی مشاورت کے دوران کیے گئے عہد و پیمان پر عمل درآمد سمیت متعدد مطالبات اٹھائے گئے تھے۔
تاہم سلمان ساگر نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ یہ جماعت کے اندرونی معاملات ہیں جنہیں عوامی محاذ آرائی کے بجائے باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔بی جے پی رہنما رام مادھو سے متعلق اپنے سابقہ بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر الگ سے بات کریں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں