سرینگر/سابق نیشنل کانفرنس رہنما اور سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے الزام عائد کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے ساتھ ان کی سیاسی محاذ آرائی کی بنیادی وجہ پارٹی کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سامنے سرینڈر کرنا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس صورتحال کو معمول کا حصہ بننے نہیں دیں گے۔
آغا روح اللہ، جنہوں نے 3 نومبر کو بڈگام میں ایک عوامی ریلی کے دوران نیشنل کانفرنس اور سرینگر لوک سبھا نشست سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا، نے بی جے پی رہنما رام مادھو کے اس بیان کو بھی مسترد کیا کہ ان کی ریلی بی جے پی حامیوں کی آشیرواد سے منعقد ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ رام مادھو کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔روح اللہ نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس کے ساتھ میری محاذ آرائی کی وجہ یہ تھی کہ پارٹی نے بی جے پی کے سامنے سرینڈر کیا ہے اور میں اس سرینڈر کو معمول بننے نہیں دوں گا۔‘‘
رام مادھو کے دعوے سے متعلق سوال پر سرینگر کے رکن پارلیمان نے کہا، ’’میں رام مادھو کو نہیں جانتا۔ اللہ مجھے ایسے لوگوں سے واسطہ رکھنے سے محفوظ رکھے۔‘‘انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت سے رام مادھو کے بیان کی وضاحت کرنے کو کہا اور اشارہ دیا کہ اس معاملے میں پارٹی قیادت بہتر جواب دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ان سے پوچھیں، شاید انہوں نے خود رام مادھو کو بلایا ہو۔ انہیں اس بارے میں زیادہ معلوم ہوگا کیونکہ ممکن ہے کہ ان کی بات چیت ہوئی ہو۔‘‘
آغا روح اللہ نے واضح کیا کہ بی جے پی رہنماؤں کی کسی بھی قسم کی مداخلت انہیں جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال قبول کرنے پر آمادہ نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ چاہے کتنے ہی رام مادھو ان کی مدد یا بچاؤ کے لیے آجائیں اور بی جے پی کے کتنے ہی رہنما ان کے حق میں سامنے آئیں، وہ موجودہ صورتحال کو معمول بننے نہیں دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی پالیسیاں، جموں و کشمیر کے تئیں اس کا رویہ اور خطے کے ساتھ جارحانہ طرزِ عمل بدستور مخالفت کا سامنا کرے گا۔ ان کے بقول، ’’بی جے پی، اس کی پالیسیاں، جارحیت، اس ریاست کی تنزلی اور اس کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بغیر کسی چیلنج کے نہیں رہے گا، اس کی مخالفت کی جائے گی۔‘‘
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب رام مادھو نے 3 نومبر کو جموں کے دورے کے دوران کہا تھا کہ روح اللہ بڈگام میں اپنی ریلی ہمارے لوگوں کی آشیرواد سے منعقد کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کو واضح طور پر اندرونی اختلافات کا شکار جماعت بھی قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بی جے پی کا حکمران جماعت کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بعد ازاں نیشنل کانفرنس نے روح اللہ کے استعفے پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے پارٹی کے سیاسی پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانے کے بعد اسی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
آغا سید روح اللہ مہدی نے 2024 کے عام انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر سرینگر پارلیمانی نشست سے کامیابی حاصل کی تھی اور وہ تقریباً 24 برس تک پارٹی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت، بالخصوص وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر اہم انتخابی وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جن میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی بھی شامل ہے۔
روح اللہ نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی آئندہ سیاسی جدوجہد جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے ایک وسیع تر تحریک کی تشکیل پر مرکوز ہوگی۔
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments