سری نگر (ساؤتھ ایشین وائر):
مقبوضہ کشمیر میں جاری نامساعد حالات میں کشمیریوں نے جذبہ ایثار و ہمدردی اور مہمان نوازی کی قدیم روایت کو برقرار رکھا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں مستحقین و مجبور افراد کی مالی معاونت کے لیے ‘بیت المال’ اور دیگر فلاحی اداروں کو متحرک کیا گیا ہے۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق سرینگر کے علاوہ وادی کے بیشتر علاقوں میں نئے بیت المال قائم کیے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں تقریبا دو ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث کثیر آبادی بے روزگار ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو مالی بحران کا سامنا ہے۔
مقامی لوگوں نے اس کے پیش نظر بیت المال کو مزید متحرک اور مستحکم کیا ہے تاکہ مستحقین کی بھر پور مالی معاونت کی جاسکے۔
ساؤتھ ایشین وائرکی رپورٹ کے مطابق سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شہری نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لئے ہر سال کچھ پیسہ بیت المال میں جمع کرنا لازم ہے اور وہ پیسہ بعد ازاں غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں جاری نامساعد حالات کے باعث کو بیت المال کو مستحکم و متحرک کرنے کے لیے باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے اور صاحب ثروت افراد سے اس میں بھر پور مالی معاونت کی اپیل کی جاتی ہے۔
وادی میں قریب دو ماہ سے جاری غیریقینی صورتحال کے باعث لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی، مسلسل بندشوں کے بعد ایسے افراد کا روزگار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جس کے سبب مقامی بیت المال پر ایسے افراد کی اضافی ذمہ داری آ پڑی ہے۔