انڈیا بلاک کے ذریعہ 31 اکتوبر کو منعقدہ ’علامتی پارلیمنٹ‘ میں صرف سیاسی لیڈران ہی موجود نہیں رہے، بلکہ سماجی لیڈران و کارکنان کے ساتھ ساتھ کچھ عام ووٹرس نے بھی شرکت کی اور ایس آئی آر کی خامیوں کو سبھی کے سامنے پیش کیا۔ ’سوراج انڈیا‘ کے سربراہ یوگیندر یادو نے تو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک طرح سے کٹہرے میں ہی کھڑا کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’گیانیش کمار نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی ساکھ پر بھی بٹّہ لگایا ہے۔ انھوں نے اس ملک کو توڑنے کی سازش کی ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’میں اس ملک کی تمام عوامی تنظیموں اور عوامی تحریکوں کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی پوری حمایت کرتا ہوں۔
اسٹوڈنٹ کارکن ریتو برالا نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی پُرزور حمایت کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’آئین نے ہمیں ووٹ کا حق دیا تھا، لیکن آج اسی ووٹ کو عوام سے چھینا جا رہا ہے۔ ملک میں ایس آئی آر کے ذریعہ مسلسل ووٹ کے حق پر حملہ کیا جا رہا ہے اور اسی لیے ہم ناانصافی کے خلاف سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑ رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں سبھی ملکی باشندوں سے یکجہتی کی اپیل کرتی ہوں کہ آپ سبھی جمہوریت کو بچانے کے لیے آگے آئیں۔‘‘
کچھ اسی طرح کا تبصرہ آر ٹی آئی کارکن انجلی نے بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ذریعہ جو ایس آئی آر کا عمل چلایا گیا ہے، وہ پوری طرح سے غیر جمہوری، غیر شفاف اور ناجائز ہے۔ ملک کی عوام نے گیانیش کمار پر بھروسہ گنوا دیا ہے، اس لیے ان پر مواخذہ چلنا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی ساتھ انجلی نے ایس آئی آر کا عمل رد کیے جانے کا مطالبہ بھی پُرزور انداز میں کیا۔
اس ’علامتی پارلیمنٹ‘ میں انیتا جیسوال عام ووٹر کے طور پر شامل ہوئیں، جن کا نام ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنی روداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں 2003 میں کولکاتا سے دہلی آئی اور 2012 میں میرا ووٹر آئی ڈی بنا۔ 2012 سے لے کر 2025 تک میں نے ہر انتخاب میں ووٹ ڈالا۔ میں ایک سنگل مدر ہوں۔ ہر دن کماتی ہوں، تب میرا گھر چلتا ہے۔ جس ووٹر آئی ڈی کی بنیاد پر میرے سبھی کاغذات بنے، آج اسے ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا۔‘‘ وہ اپنی آواز بلند کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ ’’مجھے جاننا ہے میرا ووٹ کیوں کاٹا گیا اور میں کس ملک کی شہری ہوں؟ میں فارم-6 نہیں بھروں گی، مجھے میرا پرانا ووٹر کارڈ واپس دیا جائے۔‘‘
مغربی بنگال کے افتخار احمد کا نام بھی ووٹر لسٹ سے حذف ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں کولکاتا کی چورنگی اسمبلی سے ہوں۔ گزشتہ 20 سالوں سے یہی پر ووٹ دے رہا ہوں۔ حال ہی میں جب ایس آئی آر شروع ہوا تو میں نے اینومریشن فارم بھی بھرا تھا۔ اس کے بعد مجھے الیکشن کمیشن کا نوٹس آیا۔ نوٹس کے بعد الیکشن کمیشن کو میں نے اپنے کاغذات دیے، پھر بھی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے میرا نام حذف کر دیا گیا۔‘‘ ایس آئی آر پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’یہ طے ہے کہ قصداً ہم لوگوں کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹایا گیا۔ اس سازش کا ماسٹر مائنڈ گیانیش کمار ہے۔ اسے اس کے عہدہ سے ہٹایا جانا چاہیے۔‘‘