ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آزاد کشمیر میں زلزلے کے آفٹرشاکس، لوگوں میں خوف و ہراس

آزاد کشمیر میں گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلے کے آفٹرشاکس جاری ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ متعدد زلزلہ متاثرین نے رات گھروں سے باہر گزاری۔

منگل کو آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے سے سب سے زیادہ آزاد کشمیر کے علاقے متاثر ہوئے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا جبکہ زلزلے کے باعث 25 افراد جاں بحق اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔

اس زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی وہی اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا۔

رپورٹس کے مطابق زلزلے کے آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری ہے اور رات گئے اور صبح کے اوقات میں بھی ان شاکس کو محسوس کیا گیا، جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کا ورد کرتے رہے۔

زلزلے کے باعث لوگوں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری

زلزلے کے باعث لوگوں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری

زلزلے کے باعث جاتلاں میں مختلف مقامات پر سڑکیں دھنس گئیں جبکہ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوگئی جس کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔

یہی نہیں بلکہ متعدد زلزلہ متاثرین نے رات گھروں سے باہر گزاری جبکہ خواتین اور بچے بھی مختلف مقامات پر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور نظر آئے۔

زلزلے کے آفٹر شاکس کا بھی سڑکوں پر اثر پڑا

زلزلے کے آفٹر شاکس کا بھی سڑکوں پر اثر پڑا

دوسری جانب زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے پاک فوج، سول انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کا امدادی آپریشن جاری ہے اور مختلف علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجنمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل افضل نے اپنی ٹیم اور امدادی سامان کے ہمراہ میرپور کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

قبل ازیں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے بھی ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور زلزلے سے متاثرہ افراد سے خیریت دریافت کی تھی۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے ہسپتال یں مریضوں کی عیادت کی—فوٹو: اے ایف پی

اس کے علاوہ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور زخمیوں سے ملاقات کی۔

ادھر این ڈی ایم اے کی جانب سے زلزلے متاثرین کی بحالی کا کام جاری ہے اور اب تک 200 ٹینٹس، 800 کمبل اور 200 کچن سیٹس فراہم کیے جاچکے ہیں۔

علاوہ ازیں این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک 452 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی، جس میں 160 افراد شدید جبکہ 292 معمولی زخمی بتائے گئے۔

اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ جتلاں بازار میں عمارتیں تباہ ہونے سے لوگ وہاں پھنس گئی جبکہ بھمبر سے بھی پل کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔

زلزلے کے باعث ضلع میرپور اور کوٹلی میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ مرکزی جتلاں سڑک کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ 24 ستمبر 2019 کو آزاد کشمیر سمیت پنجاب اور خبیرپختونخوا کے مختلف شہروں میں شدید زلزلے سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔

سہ پہر 4 بجے آنے والے زلزلے کی شدت 5.8 تھی اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز جہلم کے شمال میں آزاد کشمیر اور پنجاب کو جدا کرنے والی سرحد سے 22 اعشاریہ 3 کلومیٹر دور تھا۔

چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ زلزلے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے چند علاقے متاثر ہوئے جبکہ سب سے زیادہ نقصان میرپور آزاد کشمیر میں ہوا تھا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر میں زلزلے سے ہونے والی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا اور امدادی کام فوری شروع کرنےکی ہدایت کی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں