ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ

اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت نے دسمبر 2013 سے زیر التوا ٹرائل کو مکمل کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کا فیصلہ کرلیا۔

جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل خصوصی عدالت کے بینچ نے غداری کیس پر سماعتوں کا آغاز کیا۔

خصوصی عدالت کی ہدایت پر وزارت قانون کی جانب سے مقرر کیے گئے وکیل دفاع رضا بشیر ایڈووکیٹ نے کیس میں دلائل کے لیے ہدایت حاصل کرنے کے لیے سابق صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی۔

تاہم عدالت نے اس درخواست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو پہلے ہی پاکستان پینل کوڈ (سی آر پی سی) کے سیکشن 342 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا ہوا ہے۔

عدالت کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر کو مفرور ملزم کی نمائندگی کرنے سے روک دیا اور ایڈووکیٹ رضا بشیر طویل عرصے سے چلنے والے اس مقدمے کو ختم کرنے میں اپنی خدمات دے رہے ہیں۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ رضا بشیر نے کہا کہ انہوں نے پرویز مشرف سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی اور انہوں نے اس کیس کے لیے دلائل تیار کیے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے مختصر دلائل کے بعد جج نے مختصر وقفے کے لیے سماعت ملتوی کردی، جس کے بعد جب دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو انہوں نے پراسیکیوشن سمیت وکیل دفاع کو بتایا کہ بینچ کی سربراہ جج طاہرہ صفدر موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے کیس کی سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔

ساتھ ہی عدالت نے ایڈووکیٹ بشیر کو ہدایت کی کہ وہ دلائل کو تیار کریں کیونکہ غداری کیس کی اگلی تاریخ سے سماعتیں روزانہ کی بنیاد پر ہوں گی۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں