ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مقبوضہ کشمیر :سیاسی رہنماؤں کو نظربند رکھنا حکومت کو مہنگا پڑنے لگا

سرینگر(ساؤتھ ایشین وائر):
مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے سنتور ہوٹل میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے اعلی رہنماؤں کو زیر حراست رکھنے پر گذشتہ 84 روز میں تین کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370 کے خاتمے سے قبل انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، پیپلز کانفرنس، اور جموں و کشمیر پیپلز مومنٹ کے کم از کم 31 رہنما کو حراست میں لے لیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گذشتہ 84 روز میں سنتور ہوٹل نے سیاسی رہنماؤں کو نظر بند رکھنے کے لیے حکومت سے تقریبا 3 کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی حفاظت کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو بھی ہوٹل میں چند کمرے دیے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر(ایس کے آئی سی سی) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نظر بند رہنماؤں کے قریب ترین رشتہ داروں بشمول، والدین، شریک حیات اور بہن بھائیوں اور بچوں کو ہی ان کے ساتھ ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس ملاقات کیلئے انہیں ضلع مجسٹریٹ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ذرائع کے مطابق سنتور ہوٹل کی انتظامیہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے دوسرے مہمانوں کے لیے کمرے کرائے پر نہیں دے رہی اور اس کے نتیجے میں ہوٹل مالکان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے اب زیر حراست 31 سیاسی رہنماؤں کو شیو پورہ کے ایک مقامی ہوٹل میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سنتور ہوٹل کی انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ نظر بند سیاسی رہنما دوسرے ہوٹل میں شفٹ ہونے سے پہلے کچھ دن یہاں قیام کریں گے۔ ذرائع کے مطابق سنتور ہوٹل میں موسم سرما کے لیے مناسب انتظامات نہیں ہیں اور قائدین ڈل جھیل کے کنارے سردیوں کے دوران سردی برداشت نہیں کرسکتے ۔
جموں و کشمیر کی نظر بند سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کے ذاتی ٹویٹر ہینڈل پر ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست سے سیاسی رہنماؤں کو غیر قانونی طریقے سے نظر بند کیا گیا ہے اور اب انہیں دوسرے ہوٹل میں منتقل کیا جائے گا۔اس سے حکومت کو 3 کروڑ روپے کا خرچہ اٹھانا پڑا ہے۔ وہیں یوروپی پارلیمان کے اراکین کشمیر میں ایک تفریحی پروگرام پر آئے ہیں۔ یہ کشمیر میں ‘نارملسی ‘ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گزشتہ کئی روز سے محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا ان کا ٹویٹر ہینڈل استعمال کررہی ہیں۔
جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلی 5 اگست سے سرینگر میں نظر بند ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے واضح کیا تھا کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں