ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مقبوضہ کشمیر میں اب گداگری جرم نہیں

سرینگر(ساؤتھ ایشین وائر):

مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر پریوینشن آف بیگری ایکٹ (Jammu and Kashmir Prevention of Beggary Act) کو کالعدم قرار دے دیا۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس راجیش بندل کی بنچ نے ریاست میں گداگری سے متعلق ایکٹ کے متعلق فیصلہ سنایا۔ہائی کورٹ نے سرینگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے 23 مئی کے حکمنامے کو بھی کالعدم قرار دیا جس کی رو سے سرینگر میں بھیک مانگنے کے عمل پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
عدالت نے حکمنامے میں گداگری کو ممنوع عمل قرار دینے کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا گیا۔عدالت عالیہ کے مطابق گداگری کو ممنوع قرار دینا اصل میں غریب عوام کو عوامی جگہوں سے دور رکھنا ہے اور جس سے اس طبقے سے وابستہ افراد مزید بدحالی کے شکار ہوتے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گداگری کو ایک ‘پر امن’ عمل قرار دیکر عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ اس عمل میں زبانی یا اشارات و کنایات کے ذریعے اجنبی افراد سے امداد طلب کی جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ گداگری قانون کو وضع کرتے وقت بھارتی آئین کی دفعہ 39 اور جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ چہارم کونظر انداز کیا گیا ہے۔
2018 میں سہیل رشید بٹ نامی ایک وکیل نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست دائرکرکے جموں و کشمیر گداگری روک تھام ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی گزارش کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ایکٹ آئین کی دفعات 14، 15، 20 اور 21 کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں