ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مقبوضہ کشمیر: بھارت کے قبضے میں واحد ریاست،جس کے دو دار الحکومت ہیں

مقبوضہ کشمیر بھارت کے قبضے میں وہ واحد ریاست ہے ، جسکے دو دار الحکومت ہیں۔ سرما میں حکومت سرمائی دارالحکومت جموں منتقل ہوجاتی ہے اور گرما میں حکومت گرمائی دار الحکومت سرینگر میں اپنا کام کاج کرتی ہے۔ چھ چھ ماہ بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ حکومت کی اس منتقلی کو’ دربار مو و’کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں دودارالحکومتوں کا قیام 1872 میںعمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت ریاست میں مہاراجہ گلاب سنگھ کی حکومت تھی۔
اکتوبر کے آغازکے ساتھ ہی وادی کشمیر میں ایک خوفناک سرما کا آغاز ہوجاتا تھا۔ شدت کی سردیاں شروع ہوجاتی تھیں۔بھاری برف باری سے کئی ماہ تک عام سڑکیں اور شاہرائیں مسدود ہوجاتی تھیں۔ لوگ ہفتوں تک گھروں سے باہر نہیں آ سکتے تھے۔حکومت عملاً مفلوج ہوجاتی تھی۔اسلئے مہاراجہ نے دارالحکومت کو سرما میں جموں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
صورتحال کا دوسرا رخ یہ تھا کہ جموں میں اپریل کے آغازسے ہی شدت کی گرمی شروع ہوجاتی تھی ۔ درجہ حرارت اس حد تک بڑھ جاتا تھا کہ انسانوں کا گھر وں سے باہر آجا نا ناممکن تھا۔ حکومت کا کام کاج ناممکن بن جاتا تھا۔اسلئے مہاراجہ نے یہ فیصلہ کیا کہ گرمیوں میں حکومت وادی منتقل کی جانی چاہیے۔ اس طرح سے جموں کشمیر میں ‘دربار موو ‘کاآغازہوا۔
ہر بار ‘دربار موو’کے موقعے پر حکومت کو سینکڑوں ٹرکوں میں سرکاری ریکارڈ اور فائلیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانی پڑتی ہیں۔وزرا اور اعلی سرکاری افسران کو ہوائی جہازوں میں ایک دارالحکومت سے دوسرے دارالحکومت پہنچانے کے انتظام کے ساتھ ساتھ تقریبا8ہزار سرکاری ملازمین کو سفر کیلئے فی کس پانچ ہزار روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ پھر انکی رہائش کا انتظام کا خرچہ الگ سے۔ساؤتھ ایشین وائر نے نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ بات کوئی صیغہ راز نہیں کہ جموں کشمیر کے خزانہ کو ہر سال ‘دربار موو’ کے نام پر سو کروڑ روپے کے لگ بھگ خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔حکومتی ریکارڈ کو سرینگر سے جموں اور پھر چھ ماہ بعد جموں سے واپس سرینگر منتقل کرنے کیلئے سٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے سینکڑوں ٹرکیں اور بسیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ملازمین کی رہائش کاانتظام کرنے کی ذمہ داری محکمہ اسٹیس کی ہے۔اس پر بھی کروڑوں روپے کا خرچہ آتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ‘دربار مو و’کا سلسلہ ختم کرنے کیلئے اب تک کوششیں نہ کی گئی ہوں۔1978میں ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلی شیخ محمد عبداللہ نے اسے ختم کرنے کی ایک کوشش کی تھی لیکن یہ ناکام ہوئی۔9سال بعد شیخ عبداللہ کے جانشین فاروق عبداللہ نے بحیثیت وزیر اعلیٰ دربار موو کی روایت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے حکومت کو مستقل طور پر ہی سرینگر میں رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن اس فیصلے پر جموں کی آبادی نے ایک ایجی ٹیشن شروع کیا۔ جسکی وجہ سے فاروق عبداللہ کی حکومت کو یہ فیصلہ بدلنا پڑا تھا۔
ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ کے مطابق ہر بار جب ‘دربارموو’ سرینگر سے جموں منتقل ہوجاتاہے یا جموں سے واپس سرینگر منتقل ہوجاتا ہے، ریاست کے سنجیدہ فکر طبقات میں اس عمل ہر مخالفانہ رائے زنی شروع کی جاتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ مین سٹرئم جماعتوں میں کوئی بھی اس تقریبا ڈیڑھ صدی پرانی روایت کو توڑنے کیلئے کھل کر سامنے نہیں آتااور ہی دربار موو کا کوئی متبادل پیش کیا جاتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں