
کے ایم سی ملازمین کیلئے مختص سرکاری فلیٹس ٗ مکانات اور کوارٹرز کو عدالتی احکامات کے باوجود غیر متعلقہ افراد سے قبضہ واگزار نہیں کرایا جاسکا
ملازمین کا میئر کراچی سمیت عدالت عظمیٰ اور تحقیقاتی اداروں سے لوٹ کا مال سمجھ کر قبضہ کرنے والوں کیخلاف فوری نوٹس اور کارروائی کا مطالبہ
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی)بلدیہ عظمی کراچی کے سرکاری فلیٹس،مکانات اور کوارٹرز کو طاقتور مافیا نے لوٹ کا مال سمجھ کر قبضہ کرنا شروع کردیا،کے ایم سی ملازمین کیلئے مختص سرکاری رہائش گاہوں میں غیر متعلقہ افراد کافی عرصے سے قابض،عدالتی احکامات کے باوجودطاقتور مافیا سے قبضہ واگزار نہیں کرایا جاسکا،ملازمین کا میئر کراچی سمیت عدالت عظمی اور تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس اور کارروائی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمی کراچی کی سرکاری رہائش گاہوں میں گزشتہ کئی سالوں سے غیر متعلقہ افراد نے قبضہ کررکھا ہے جس میں سندھ حکومت کے ملازمین بھی شامل بتائے جاتے ہیں،بلدیہ کراچی کے افسران وملازمین کو سرکاری رہائش کی الاٹمنٹ کے باوجود انہیں قبضہ نہیں دیا جارہا،جبکہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کا عملہ بھی مبینہ طور پر مک مکا کر کے خاموش تماشائی بنا ہوا ہے،موجودہ صورتحال میں بلدیہ کراچی کے محکمہ اکاموڈیشن اور محکمہ اسٹیٹ کی رٹ ختم ہوکر رہ چکی ہے،ذرائع کے مطابق مکان نمبر1حقانی چوک جو کہ عرصہ 16سالو ں سے ڈی جی کالج کے پرنسپل شہزاد اسلم کے زیر قبضہ ہے جس کا کوئی کرایہ تک ادا نہیں کیا جاتا ،اسی طرح کے ایم سی میٹرنٹی ہوم سولجر بازار نمبر3 پر واقع ڈاکٹر کی رہائش گاہ پر سندھ حکومت کے سول اسپتال کے ڈپٹی ایم ایس غلام رسول بروہی نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے 2013ء سے قبضہ کررکھا ہے،مذکورہ گھر کے ایم سی کے ایک سینئر ڈاکٹر کو الاٹ ہے لیکن وہ الاٹ شدہ گھر کا قبضہ حاصل کرنے میں تاحال ناکام ہیں،اس کے علاوہ پی آئی ڈی سی پر واقع فلیٹس میں بھی الاٹیز کے علاوہ دیگر افراد قابض ہیں۔