
خریداری کیلئے آنے والوں کی گاڑیاں اٹھالی جاتی ہیں، پرائیوٹ افراد کی مافیا بھی کام کررہی ہے
شہری یومیہ ٹریفک پولیس اور پرائیوٹ مافیا کے کارندوں کو لاکھوں روپے ادا کررہے ہیں
ریگل چوک پر ٹریفک سگنل کے قریب ٹریفک پولیس اہلکار سارا دن موٹر سائیکل سواروں سے نذرانے وصول کرتے ہیں
کراچی (کرائم رپورٹر) ٹریفک پولیس نے شہر کے سب سے بڑے کاروباری اور تجارتی علاقے صدر ریگل چوک اور اطراف کے علاقوں میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے، خریداری کے لیے آنے والے شہریوں کی گاڑیوں کو لفٹر کے ذریعے اٹھا لیا جاتا ہے اس کے بعد گاڑی مالکان سے جوڑ توڑ کی جاتی ہے، بات اگر نہ بنے تو 500 روپے کا جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے ہمراہ ایک مافیا بھی سرگرم ہے جو شہریوں سے جوڑ توڑ کرتی ہے۔ ایس او پریڈی نے تصدیق کی کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ساتھ پرائیویٹ لوگ بھی کام کرتے ہیں۔ جبکہ ریگل چوک پر سگنل کے قریب درجن بھر اہلکار سارا دن موٹر سائیکل سواروں اور سامان لے جانے والی گاڑیوں سے نذرانے وصول کرتے نظر آتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر شہری یہاں لاکھوں روپے مبینہ طور پر ٹریفک پولیس اور مافیا کو رشوت کے عوض دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مافیا کے کارندے اس تجارتی مراکز میں گھومتے ہیں اور جیسے ہی کوئی شہری اپنی گاڑی سے دور جاتا ہے تو یہ مافیا کا کارندہ ٹریفک پولیس اہلکاروں جن کے پاس لفٹر ہوتا ہے ان کو اطلاع کر دیتا ہے اس کے بعد یہ مافیا کا کارندہ جوڑ توڑ کرتا ہے 300 روپے کا تقاضا کیا جاتا ہے اور پھر 100 یا 200 روپے میں معاملہ طے کر لیا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شہریوں سے جوڑ توڑ نہ ہو سکے تو پھر 500 روپے کا جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مافیا کا سرغنہ عباس نامی پرائیویٹ شخص ہے جو لفٹر میں ٹریفک پولیس اہلکار کے ہمراہ بیٹھا ہوا ہوتا ہے اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ عباس ہی گاڑیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور جوڑ توڑ بھی یہی کرتا ہے، گویا یہ پورا علاقہ اس نے ٹھیکے پر لے رکھا ہے۔ ایس او پریڈی فاروق سے بات کی گئی تو انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ہمراہ پرائیویٹ لوگ بھی ساتھ ہوتے ہیں جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ایک مافیا ہے جو بغیر وردی یہ سارا کام انجام دیتا ہے۔