
ایک سال گزر گیا مسمار کی گئیں 300 قانونی دکانوں کے متاثرین کو متبادل جگہ نہیں دی گئی، حکیم شاہ
کراچی (کامرس رپورٹر) لائٹ ہاؤس لنڈا بازار کی 300 سے زائد قانونی دکانیں مسمار کی گئیں اور ایک سال گزر گیا متاثرین کو تاحال متبادل جگہ نہیں دی گئی۔ متاثرین کی جانب سے عارضی طور پر لگائے گئے اسٹال بھی پولیس نے ہٹوا دیے۔ لائٹ ہاؤس لنڈا بازار کے متاثرین گزشتہ چھ روز سے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔آج 18 نومبر بروز پیر دوپہر 12 بجے متاثرین لائٹ ہاؤس لنڈا بازار اپنی مارکیٹ بند رکھیں گے اور مئیر کراچی وسیم اختر کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔ چیئرمین آل سٹی تاجر اتحادصدر انجمن فلاح تاجران لائٹ ہاؤس مارکیٹ حکیم شاہ نے کہا کہ ہم اپنے حقوق سے پچھے نہیں ہٹیں گے ہمارا دھرنا اور جدوجہد ضرور رنگ لائے گی اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم اگلے لائحہ عمل میں مئیر کراچی وسیم اختر کے دفتر اور وزیر اعلی ہاوس کا گھیراو کریں گے۔ دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کے لیے شاکر فینسی، شرجیل گوپلانی ، شبیر کپور، جمیل پراچہ بھی پہنچ گئے ۔ ہمارا دھرنا اور جدوجہد ضرور رنگ لائیگا حکیم شاہ نے کہا کہ انکروچمنٹ اداروں کی جانب سے لائٹ ہاؤس مارکیٹ کی جائز اور قانونی دوکانوں کو توڑنے کو آج ایک سال گزر گیا۔ عارضی طور پر لگائے گئے اسٹال پولیس کی جانب سے مسمار کر دیے جبکہ روڈ پر پولیس اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے غیر قانونی پارکنگ اور ٹھیلا مافیا آزاد ہے۔دوکاندار مہنگائی کے اس دور میں فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے۔