
دکانداروں، شو روم مالکان، رینٹ اے کار، ریسٹورنٹس سمیت بڑے کاروباری افراد کیخلاف کوئی کارروائی نہ کی جاسکی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے تجاوزات کے خاتمے کے حکم کو متنازع بنا دیا ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی بھر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا آپریشن یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ٹھیلے اور پتھاروں تک محدود ہے جبکہ شہر بھر میں فٹ پاتھوں پر قبضہ کرکے کاروبار کرنے والے دکانداروں، فرنیچر شوروم مالکان، رینٹ اے کار، ریسٹورنٹس، اسنیک بارز سمیت بڑے کاروباری افراد سے محکمے نے معاملات طے کرلیے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر طویل وقفے کے بعد گزشتہ دنوں کے ایم سی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے تجاوزات کے خاتمے کے لیے شہر بھر میں آپریشن شروع کر دیا ہے جو صرف ٹھیلے اور پتھاروں کے خاتمے تک محدود ہے، شہر کے مختلف علاقوں گلشن اقبال بلاک 13-D فرنیچر شوروم حسن اسکوائر سے نیپا فلائی اوور تک اور سندھی مسلم سوسائٹی چورنگی پر فٹ پاتھ اور سروس روڈ پر قابض اسنیک بارز مالکان، طارق روڈ، بہادر آباد، دھوراجی کے فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قبضہ کرکے کاروبار کرنے والوں کے خلاف تاحال کارروائی نہیں کی گئی ہے۔