ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ کا کرونا ویکسی نیٹڈ مسافروں کے لیے زمینی سرحدیں کھولنے کا فیصلہ

امریکہ آئندہ ماہ سے غیر ضروری سفر کے لیے زمینی سرحدیں کھولنے جا رہا ہے جس کے بعد کرونا کی عالمی وبا کے باعث 19 ماہ سے عائد پابندی ختم ہو جائے گی۔ تاہم امریکہ آنے کے لیے بین الاقوامی مسافروں کے لیے لازمی ہو گا کہ انہوں نے ویکسین لگوا رکھی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان گاڑیوں، کشتیوں یا ٹرین کے ذریعے زیادہ تر آمد و رفت عالمی وبا کے شروع کے دنوں سے ہی بند کر دی گئی تھی۔

نئے قواعد جن کا باضابطہ اعلان بدھ کو کیا جا رہا ہے، اس کے تحت ویکسین کا کورس مکمل کرنے والے غیر ملکیوں کو نومبر سے امریکہ میں داخلے کی اجازت ہو گی چاہے ان کے آنے کی وجہ کچھ بھی ہو۔ اسی طرح کی نرمی فضائی سفر کے ذریعے امریکہ آنے والوں کو بھی دی جا رہی ہیں۔

علاوہ ازیں وسط جنوری کے بعد ناگریز وجوہات پر امریکہ آنے والوں جیسا کہ ٹرک ڈرائیورز کے لیے بھی لازمی ہو گا کہ ان کی مکمل ویکسی نیشن ہوئی ہو۔

انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو دیر گئے نئی پالیسیوں کا جائزہ لیا اور اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باضابطہ اعلان سے قبل ‘اے پی’ کو اس بارے میں آگاہ کیا۔

کینیڈا اور میکسیکو کئی ماہ سے امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سفری پابندیوں میں نرمی کرے جس کے سبب خاندان تقسیم ہوگئے ہیں اور عالمی وبا کے بعد سیاحتی دورے بھی محدود ہو گئے ہیں۔

اٹلانٹا میں سی ڈی سی کے دفتر کا بیرونی منظر

اٹلانٹا میں سی ڈی سی کے دفتر کا بیرونی منظر

حکام کے مطابق دونوں پالیسیاں نومبر کے شروع میں نافذالعمل ہوں گی۔ تاہم انہوں نے کسی مخصوص تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

نئے قواعد امریکہ میں صرف قانونی داخلے پر عائد ہوں گے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کریں گے ان کو ‘ٹائٹل فورٹی ٹو’ اتھارٹی کے تحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس اتھارٹی پر پہلی مرتبہ عمل درآمد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں کیا گیا تھا۔ جس پر تنقید بھی کی گئی تھی۔ اس اتھارٹی کے تحت تارکینِ وطن کو فوری طور پر واپس بھجوا دیا جاتا ہے تاکہ وہ سیاسی پناہ کی درخواست نہ دے سکیں۔

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ سرحد پر گشتی مراکز کی صورتِ حال سے کرونا کا خطرہ ہے۔

حکام کے مطابق گاڑیوں، ریل یا کشتی کے ذریعے امریکہ داخل ہونے والے افراد سے ان کی ویکسی نیشن کے بارے میں سوال و جواب یو ایس کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایڈمشن کے طریقۂ کار کا حصہ ہوں گے۔

البتہ فضائی سفر کے برعکس دیگر ذرائع سے آنے والوں کے لیے منفی کرونا ٹیسٹ ضروری نہیں ہو گا۔ البتہ ویکسین کی شرط کو پورا کرنا لازمی ہو گا۔

واضح رہے کہ فضائی سفر کے ذریعے امریکہ آنے والوں کے لیے لازمی ہے کہ طیارے میں سوار ہونے سے قبل وہ منفی کرونا ٹیسٹ کا ثبوت فراہم کریں۔


کرونا سے بچاؤ کے لیے انڈونیشیا میں ماسک پہننے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

کرونا سے بچاؤ کے لیے انڈونیشیا میں ماسک پہننے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق امریکہ ان تمام مسافروں کو قبول کرے گا جنہوں نے عالمی ادارۂ صحت کی منظور کردہ کوئی بھی ویکسین لگوا رکھی ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ سی ڈی سی ایسے مسافروں کے داخلے کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے جنہوں نے دو مختلف ویکسین لگوا رکھی ہیں۔ جیسا کہ یہ عمل کینیڈا میں عام تھا۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لی گئی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں