مجرمانہ ریکارڈ کے حامل پولیس افسران بدستور عہدوں پر براجمان

کراچی: انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ غلام نبی میمن نے محکمہ پولیس میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے اہلکار و افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا ان افسران میں کچھ ایسے افسران بھی شامل ہیں

جن کو سپریم کورٹ نے برطرف کرنے کا حکم دیا تھا۔انہو ں نے کرمنل ریکارڈ رکھنے والے پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم جاری کرنے والے سندھ پولیس کے پہلے سربراہ نہیں ہیں۔2017 اور 2018 میں بھی سپریم کورٹ کے حکم پر اس وقت کے آئی جی سندھ نے 130 پولیس افسران کو جبری برطرف کرنے کے علاوہ 19 اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے تھے

تاہم کرمنل ریکارڈ کے حامل ان افسران کی بڑی تعداد انکوائریز ختم کرانے کے بعد آج بھی مختلف عہدوں پر تعینات ہے۔سندھ پولیس کے سربراہ کے احکامات کے باوجود سیاسی بنیادوں پر آج بھی حیدرآباد کے 63 ، جامشورو کے 62، مٹیاری کے 67 اور ٹنڈوالہیار کے 22 پولیس افسران تاحال عہدوں پر تعینات ہیں۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ ان افسران کے خلاف انکوائری جاری ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں