ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت: ڈیپ فیک ٹولز کس طرح الیکشن کے لیے ‘خطرہ’ بن رہے ہیں؟

بھارت میں سال 2016 میں انتقال کر جانے والی تامل ناڈو کی سابق وزیرِ اعلیٰ جایا رام جایا للیتا کا حال ہی میں ایک وائس میسج سامنے آیا ہے جس میں وہ ریاست کی موجودہ حکومت پر شدید تنقید کر رہی تھیں۔

ان کے اس ڈیجیٹل آواٹار کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ہمارے پاس ایک بدعنوان اور ایسی ریاستی حکومت ہے جو کسی کام کی نہیں۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوں کیوں کہ وہ عوام کے لیے موجود ہیں۔

ریاست کی موجودہ حکومت جایا للیتا کی حریف جماعت کے پاس ہے جس کی قیادت سابق وزیرِ اعلیٰ ایم کروناندھی کرتے تھے۔ ان کا انتقال بھی 2018 میں ہو گیا تھا لیکن اب وہ ایک آرٹیفیشل انٹیلی جینس (اے آئی) سے بنی ویڈیوز میں سامنے آئے ہیں۔

ان ویڈیوز میں وہ اسی انداز میں سیاہ چشمہ پہنے ہوئے نظر آئے جو ان کا ٹریڈ مارک تھا۔

ویڈیوز میں وہ اپنے بیٹے اور ریاست کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی تعریف کرتے نظر آئے ہیں۔

بھارت میں 19 اپریل سے شروع ہونے والے چھ ہفتے طویل انتخابات کے لیے سیاسی جماعتیں ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق سیاسی جماعتوں کی جانب سے ‘ڈیپ فیکس’ بنانے کے لیے اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے مشہور چہروں اور آوازوں کو اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ وہ مستند لگتی ہیں۔

حکومت اور انتخابی مہم چلانے والوں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے ٹولز کا استعمال ملک میں انتخابات کی شفافیت کے لیے خطرناک ہے اور یہ بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔

ملک کی جنوبی ریاست ریاست تامل ناڈو میں اس طرح کی نام نہاد "گھوسٹ اپیئرنسز” انتخابی مہم کا ایک مقبول طریقہ بن گیا ہے جن میں انتقال کر جانے والے رہنماؤں کو ویڈیوز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایم کروناندھی کی اے آئی ویڈیو بنانے والی چنئی کی کمپنی میونیم کے بانی سینتھل نیاگم کہتے ہیں کہ بہت اچھے مقرر کی اے آئی ویڈیو بنانا توجہ حاصل کرنے کا نیا طریقہ ہے۔

مردہ رہنماؤں کو ڈیجیٹلی زندہ کر کے پیش کرنے کا طریقہ روایتی ریلیوں کے مقابلے میں کم خرچ بھی ہے۔ ریلیوں یا جلسوں کا انعقاد وقت طلب اور مہنگا ہوتا ہے۔

نیاگم نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہجوم کو لانا ایک مشکل کام ہے اور آپ کتنی مرتبہ ڈرون شو کرسکتے ہیں؟

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتخابی مہم میں سب سے پہلے ٹیکنالوجی استعمال کرنے والوں میں شامل رہی ہے۔

سال 2014 میں بی جے پی نے نریندر مودی کی انتخابی مہم کے دوران تھری ڈی پروجیکشنز کا استعمال کیا تھا تاکہ ریلیوں میں ان کی ورچوئلی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔

لیکن ایسی ٹیکنالوجی نے جس کے استعمال سے سیاست دان کی آواز کا کلون بنایا جا سکے اور بظاہر حقیقی لگنے والی ویڈیوز بن سکیں، ووٹرز کے لیے حقیقت اور افسانے کے درمیان فرق سمجھنے میں مشکلات پیدا کی ہیں اور یہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

بھارت کے وزیرِ مواصلات اشونی ویشنو نے نومبر میں کہا تھا کہ ڈیپ فیکس جمہوریت اور سماجی اداروں کے لیے "ایک سنگین خطرہ” ہے۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اے آئی کری ایٹر دیویندرا جادون کہتے ہیں کہ انہیں اپنی کمپنی دی انڈین ڈیپ فیکر سے مواد کی تخلیق کے لیے ملنے والی درخواستوں میں "بڑا اضافہ” ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سے آنے والے الیکشن میں ایک بڑا خطرہ ہے اور انہیں یقین ہے کہ بہت سے لوگ اسے غیر اخلاقی سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

جادون کے پاس وائس کلوننگ (آواز کی نقل)، چیٹ بوٹس اور واٹس ایپ کے ذریعے بڑے پیمانے پر پھیلائی جانے والی تیار پروڈکٹس کا بڑا ذخیرہ ہے اور ایک لاکھ روپے میں چار لاکھ لوگوں تک فوری طور پر مواد شیئر کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت سی ایسی آفرز کو منع کیا ہے جس سے وہ متفق نہیں تھے۔ لیکن ان کے بقول اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ ان کی سروسز کے لیے آنے والی درخواست غیر اخلاقی تھی یا نہیں، "ایک بہت باریک لکیر” ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار تو ہم بھی اس میں الجھ جاتے ہیں۔

اے آئی سے تیار کردہ مہم کا زیادہ تر مواد اب تک حریفوں کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے خاص طور پر گانے کے ذریعے تنقید کی گئی ہے۔

رواں ہفتے بی جے پی کے یوتھ ونگ کے ایک رہنما نے دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اور نریندر مودی کے مخالف اروند کیجریوال کی ایک اے آئی سے بنی ویڈیو پوسٹ کی۔

اس ویڈیو میں انہیں سلاخوں کے پیچھے گٹار بجاتے ہوئے ایک مشہور بالی وڈ گانا گاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اروند کیجریوال ایک کرپشن اسکینڈل میں اس وقت گرفتار ہیں۔

بھارت: عام انتخابات میں خواتین کا ووٹ کتنا اہم ہے؟





please wait



No media source now available

اسی طرح ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ ویڈیوز میں بھارت کے مشہور مسلم سیاست دان اسد الدین اویسی کو بھجن گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مزید برآں فیس بک پر موجود ایک ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں مذاق کرتے ہوئے لکھا گیا کہ مودی کی پارٹی جو اپنی ہندو قوم پرست سیاست کے لیے جانی جاتی ہے اور اس پر بھارت کی مسلم اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کا الزام ہے، اگر دوبارہ جیت جاتی ہے تو "کچھ بھی ممکن ہے۔”

یونیورسٹی آف مشی گن سے جمہوریت میں ٹیکنالوجی کے کردار کے ماہر جویوجیت پال کہتے ہیں کہ یہ زیادہ مؤثر مہم ٹول یہ ہے کہ سیاسی مخالف کو "ٹھگ یا بدمعاش کہنے” کے بجائے اس کی تضحیک کی جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی سے بنی تصویروں کو با آسانی حقیقی سمجھا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے ماننے یا نہ ماننے کی اہلیت کے لیے ایک خطرہ ہے اور یہ پوری جمہوریت کے لیے ایک خطرہ ہے۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے لی گئی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں