اسلام مخالف بیانات پر آسٹریلیا کا سخت اقدام، اسرائیلی انفلوئنسر کا ویزا منسوخ
آسٹریلیا نے اسلام کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یاہود کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نفرت پھیلانے والے افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں اور ایسے مہمانوں کو قبول نہیں کیا جائے گا جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یاہود کا ویزا اسرائیل سے روانگی سے محض تین گھنٹے قبل منسوخ کیا گیا۔ سیمی یاہود نے اس فیصلے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف انتہائی متنازع بیان دیا اور اسلام کو ایک “نفرت انگیز نظریہ” قرار دیا، جس کے بعد ان کے بیانات پر عالمی سطح پر بھی تنقید کی گئی۔
آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آسٹریلیا کا سفر کرنا چاہتے ہیں انہیں درست ویزا کے لیے درخواست دینا ہوگی اور درست وجوہات کی بنیاد پر آنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت پھیلانا کسی بھی صورت میں آسٹریلیا آنے کی قابلِ قبول وجہ نہیں ہو سکتی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ سال 14 دسمبر کو سڈنی کے بونڈی بیچ پر ہنوکا کی تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد آسٹریلیا نے نفرت انگیز جرائم سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے تھے تاکہ معاشرے میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔