وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سہ ملکی سرکاری دورے کی تکمیل کے بعد ترکیہ کے شہر انطالیہ سے وطن واپس روانہ ہوگئے۔
وزیرِ اعظم دفتر کے شعبۂ ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کہا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمک، سفیر نیلوفر کیگزیز، ترکیہ کی پارلیمنٹ کے رکن برہان قایاترک اور پاکستان کے ترکیہ میں تعینات سفیر ڈاکٹر یوسف جنید بھی موجود تھے جنہوں نے وزیرِ اعظم کو رخصت کیا۔
انطالیہ سے روانگی کے موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ انطالیہ کے دورے کی خوشگوار اور مثبت یادیں اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور انہیں ہر سطح پر مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے حل کے لیے پرامن راستہ ہی واحد مؤثر ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں تعاون اور مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
سرکاری دورے کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں جبکہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک متعدد عالمی رہنماؤں سے بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات کی مضبوطی، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس دورے میں پاکستانی وفد میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی بھی شامل تھے۔ یہ وفد مختلف سطحوں پر ہونے والی ملاقاتوں اور مشاورت میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ رہا۔