امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے حال ہی میں پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں، کیونکہ ان میں جوہری پروگرام سے متعلق وہ وضاحت موجود نہیں جسے واشنگٹن بنیادی شرط قرار دے رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنی نئی شرائط اور تجاویز پہنچائی ہیں، تاہم امریکی قیادت انہیں ناکافی سمجھ رہی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو خاص طور پر اس بات پر تحفظات ہیں کہ ایرانی تجاویز میں ایٹمی پروگرام کے مستقبل، یورینیم افزودگی اور ممکنہ نگرانی کے نظام کے بارے میں واضح مؤقف شامل نہیں۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل پیش رفت کے لیے سب سے پہلے جوہری مسئلے پر شفاف اور قابل عمل یقین دہانی ضروری ہے، بصورت دیگر مذاکرات کا فائدہ محدود رہے گا۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز میں پہلے جنگ بندی اور اس کے بعد مستقل جنگ بندی کی ضمانت کو بنیادی نکتہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کو امریکی بحری ناکابندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملات طے پا جائیں تو پھر ایٹمی پروگرام پر باضابطہ بات چیت ممکن ہو سکتی ہے، تاہم امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے ایرانی حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں واضح کیا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھتا ہے تو ملاقاتوں اور مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر تہران واقعی سنجیدہ ہے تو براہ راست رابطہ کرے، کیونکہ امریکا کے پاس محفوظ اور مؤثر رابطہ ذرائع موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر اعتماد کی بحالی اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔