واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری حساس سفارتی معاملات اور مذاکرات کے نکات کو میڈیا پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری رابطوں کو عوامی سطح پر لانے سے گریز کیا جائے گا۔
امریکی صدارتی دفتر کی اسسٹنٹ پریس سیکریٹری اولیویا ویلز نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حساس معاملات پر میڈیا میں بحث سے گریز کرنا ہی دونوں فریقین کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں یہ مؤقف اپنایا ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے میں اپنی قومی شرائط کو سب سے زیادہ مقدم رکھے گا۔ واشنگٹن ایسے کسی بھی سمجھوتے کا حصہ نہیں بنے گا جس سے امریکی عوام کے مفادات کو کوئی نقصان پہنچے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکا اور اسرائیل مسلسل ایران کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا عمل مکمل طور پر ترک کر دے، کیونکہ یہ عمل جوہری صلاحیت کا پیش خیمہ ہے۔
دوسری جانب ایران اپنے دیرینہ مؤقف پر بدستور قائم ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری موجودہ سفارتی کوششوں اور مذاکرات میں جوہری پروگرام کا ایجنڈا زیر بحث نہیں آئے گا۔ تہران کا اصرار ہے کہ جوہری معاملات کو موجودہ بات چیت کا حصہ بنانا ان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات کا دوسرا دور تاحال تعطل کا شکار ہے۔
اس صورتحال کے باعث خطے میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کے حالیہ بیان سے ایسا لگتا ہے کہ سفارتی کوششیں کسی نہ کسی سطح پر مسلسل جاری ہیں۔
اس تمام تر صورتحال میں بین الاقوامی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔ فی الحال وائٹ ہاؤس کا خاموشی اختیار کرنے کا فیصلہ سفارتی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے تاکہ معاملات کو مزید الجھنے سے بچایا جا سکے۔