کراچی: منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ Anmol alias Pinky کو سٹی کورٹ کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سخت سکیورٹی میں پیش کیا گیا، جہاں سماعت کے دوران ملزمہ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے شور شرابہ بھی کیا۔
عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے مبینہ طور پر 22 دن تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا، اسے لاہور سے گرفتار کر کے منتقل کیا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ کارروائی قانون کے مطابق ہوگی اور اسے مکمل دفاع کا حق حاصل ہے۔ عدالت میں ملزمہ کے وکیل کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں اب تک متعدد گرفتاریاں ہو چکی ہیں اور ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات کی برآمدگی بھی کی گئی ہے، جبکہ ان کے مطابق ایک منظم نیٹ ورک کے تحت سرگرمیاں جاری تھیں۔
تاہم عدالت نے تفتیشی افسر سے کیس کی پیش رفت اور ابتدائی ریمانڈ سے متعلق سوالات کیے اور بعض وضاحتوں پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔
بعد ازاں عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔