روح اللہ 3 نومبر کو پارٹی اور لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے فیصلے پر قائم، نیشنل کانفرنس کے آرٹیکل 370 سے متعلق موقف پر سوالات اٹھائے

بڈگام/نیشنل کانفرنس کے ناراض رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ 3 نومبر کو پارٹی کے ساتھ ساتھ لوک سبھا کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دینے کے اپنے اعلان پر قائم ہیں۔
آغا روح اللہ نے کہا کہ ان کا فیصلہ اصولوں پر مبنی ہے اور اس کی بنیادی وجہ نیشنل کانفرنس قیادت کی جانب سے عوام سے کیے گئے انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنا ہے۔
بڈگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی 3 نومبر کو استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا اور وہ اپنے اس فیصلے پر عمل کریں گے۔ یہ دن ان کے والد شہید آغا سید مہدی کی برسی بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر دفتر بڈگام کے نزدیک بہشتِ زہرا پارک میں ایک عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔
منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی ممکنہ کوششوں سے متعلق قیاس آرائیوں پر وضاحت کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ نہ تو ہارس ٹریڈنگ کے حامی ہیں اور نہ ہی خود کو ایسی کسی سرگرمی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کو اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے حکومتوں کو گرانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کے ساتھ ان کا اختلاف انتخابی وعدوں سے متعلق ہے، جن میں دفعہ 370 کی بحالی، آئینی حقوق، ریزرویشن کے مسائل اور قیدیوں کی رہائی جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
آغا روح اللہ نے واضح کیا کہ ان کی ناراضگی کسی عہدے یا منصب سے محروم رہنے کی وجہ سے نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ’’میری کوئی ذاتی شکایت نہیں کہ مجھے کوئی عہدہ یا کرسی نہیں ملی۔ میری جدوجہد اصولوں اور ان وعدوں کی بنیاد پر ہے جو نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران عوام سے کیے تھے۔‘‘انہوں نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے دفعہ 370 سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب پارٹی قیادت خود دفعہ 370 کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے پر آمادہ نہیں تو پھر وہ پارٹی کے انتخابی نشان پر پارلیمانی نشست اپنے پاس کیوں رکھیں؟
آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ کسی قسم کی الجھن یا دھوکہ دہی کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور اگر پارٹی اپنی آئینی حقوق کی جدوجہد سے پیچھے ہٹ رہی ہے تو ان کے لیے اس کے پلیٹ فارم پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فیصلے کے سیاسی نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر عوام ان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں تو مستقبل میں انہیں پارلیمانی پلیٹ فارم کے ذریعے دوبارہ عوام کی نمائندگی کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔
آخر میں آغا روح اللہ نے اصولی سیاست، شفافیت اور سیاسی جوابدہی پر یقین رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ 3 نومبر کو منعقد ہونے والے اجتماع میں شرکت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اجتماع جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہم خیال افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں