اگر آپ بھی سوتے وقت فون تکیے پاس رکھتے ہیں تو خبردار ہوجائیں۔
بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ فون سوتے وقت سائلنٹ کرکے تکیے کے پاس رکھتے ہیں تاکہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے فون چیک کرسکیں کہ کسی کا پیغام یا کال تو نہیں آئی۔
لیکن نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ عادت مہنگی پڑ سکتی ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جب فون آپ کے بالکل پاس ہوتا ہے تو آپ کا دماغ ان سین ہائپر ویجیلنس موڈ میں رہتا ہے اسے لگتا ہے کہ آپ ابھی کام کررہے ہیں اور کوئی نوٹیفکیشن آنے والی ہے۔
جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کا دماغ کبھی بھی سوتا نہیں ہے جہاں اسے ریلیکس ہونا چاہیے، آپ سوتے ضرور آٹھ گھنٹے ہیں لیکن لگتا ایسا ہے کہ نیند پوری نہیں ہوئی ہے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی اسٹڈی یہ ثابت کرتی ہے کہ فون کی بلیو لائٹ ہمارے ہارمونز کا ستیاناس کردیتی ہیں، اسی لیے دن بھر ہم دن بھر تھکے تھکے اور فرسٹریشن میں رہتے ہیں۔
یہ صرف عادت نہیں ہوتی بلکہ ہم جان بوجھ کر اپنے دماغ کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں بنا یہ سوچے کہ یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں تو یہ عادت ترک کرکے دیکھیں آپ صبح ضرور فریش اٹھیں گے۔