بھارتی عدالت نے ہندو خواتین کی جانب سے ملک کی اہم ترین مساجد میں سے بھارتی شہر بنارس کی گیان واپی مسجد میں پوجا کی اجازت دینے کیلئے دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی ہے۔
گیانواپی مسجد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حلقے گجرات میں واقع ہے جو شمالی ریاست اترپردیش میں واقع کئی مساجد میں سے ایک ہے، جن کے بارے میں سخت گیر ہندووں کا ماننا ہے کہ ہندو کے مندر گرا کر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔
بھارت کی عدالت عظمیٰ نے مئی میں شمالی بھارت کی تاریخی گیانواپی مسجد میں مقامی عدالت کی جانب سے مسلمانوں کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہونے پر عائد کی گئی پابندی ختم کردی تھی۔
ایک ہندو فریق نے مقامی عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ مذکورہ مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت دی جائے، اس درخواست کی مسلمان فریق نے مخالفت کی اور درخواست خارج کرنے کا مطالبہ کیا تاہم عدالت نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی اور اس کیلئے 22 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رواں برس مسجد کے احاطے سے مورتی کا ایک حصہ ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ہندو پجاریوں نے دعویٰ کیا تھا کہ دیوتا کی مورتی کا یہ حصہ شیولنگ ہے اوراسی بنیاد پر انہوں نے مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت مانگ لی ہے۔
The post گیان واپی مسجد میں پوجا کی اجازت کیلئے دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر appeared first on Daily Jasarat News.