بھارتی میڈیا کی ’ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی‘ کے بارے میں رپورٹس خلاف حقیقت اور بے بنیاد ہیں، عاصم افتخار

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کراچی سے آنے والے ایک بحری جہاز سے قبضے میں لیے گئے ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی کے بارے میں بھارتی دعویٰ مسترد کردیا۔

ساتھ ہی وضاحت دی کہ جہاز میں وہ خالی کنٹینرز تھے جنہیں پہلے کے-2 اور کے-3 نیوکلئیر پاور پلانٹس کو ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی ’ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی‘ کے بارے میں رپورٹس خلاف حقیقت، بے بنیاد، مضحکہ خیز اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کوبدنام اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی روایتی چال بازی ہے۔

خیال رہے کہ مندر پورٹ پر بھارتی حکام نے چین کے شہر شنگھائی جانے والے متعدد کنٹینرز جہاز سے اتار لیے تھے۔

اس کے بارے میں پورٹ کا انتظام سنبھالنے والی بھارتی کمپنی ادامی پورٹس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ کسٹمز اور ڈی آر آئی کی ایک مشترکہ ٹیم نے مندرا پورٹ ایک غیر ملکی بحری جہاز سے غیر اعلانیہ خطرناک کارگو کے شبے پر متعدد کنٹینرز ضبط کر لیے۔

بھارتی کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ کارگو کو دستاویزات میں بے ضرر کے طور پر درج کیا گیا تھا حالانکہ ضبط کیے گئے کنٹینرز پر خطرے کے ساتویں درجے کے نشانات تھے جو تابکار مواد کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس لیے حکام نے کارگو کو مزید معائنے کے لیے جہاز سے اتار لیا۔

اپنے وضاحتی بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کراچی نیوکلئیرپاورپلانٹ کے حکام نے مطلع کیا ہے کہ یہ چین کو واپس کیے جانے والے وہ خالی کنٹینرز تھے جسے پہلے کے-2 اور کے-3 نیوکلئیر پاورپلانٹس کے لیے ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا گیا تھا۔

بیان میں کہا کہ کے-2 اور کے-3 نیوکلئیر پاور پلانٹس میں بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کے تحت جوہری توانائی کی ایندھن کا استعمال کیاجاتا ہے جو مارچ 2017 سے آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات کے تحت ہیں۔

حفاظتی اقدامات وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے آئی اے ای اے اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جوہری سہولیات کا غلط استعمال نہیں کیا جارہا اور جوہری مواد کو پُر امن مقاصد کے علاوہ کسی اور سلسلے میں استعمال نہیں کیا جارہا۔

پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات سے متعلق پاکستانی حکام عزم اس بات سے ظاہر ہے کہ اس کے تمام جوہری پاور پلانٹس اور ریسرچ ری ایکٹر بغیر کسی استثنیٰ کے آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات کے تحت ہیں اور کووڈ-19 کی وبا کے دوران بھی ان حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا۔

دستاویزات میں کارگو کے غلط ڈیکلریشین کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کنٹینرز خالی ہونے کی وجہ سے کارگو کو درست طور پر بے ضرر قرار دیا گیا تھا۔

تررجمان نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی فیک رپورٹس کسٹم سے متعلق ضابطہ جاتی امور کو آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کی جانب موڑنے کی بدنیتی پرمبنی کوشش ہے تاکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے پاکستان کوبدنام کیا جاسکے۔

منبع: ڈان نیوز

The post بھارتی میڈیا کی ’ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی‘ کے بارے میں رپورٹس خلاف حقیقت اور بے بنیاد ہیں، عاصم افتخار appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں